تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 65
ہیں۔چنانچہ پنڈت شانتی دیو شاستری صاحب لکھتے ہیں:۔’’پہلے تو آج تک یہ بھی فیصلہ نہیں ہوا کہ وید چار ہیں یا تین؟ منوسمرتی اور شتپتھ براہمن کی رو سے رِگوید، یجروید اور سام وید۔یہ تین ہی وید ہیں۔اور واجسنئی اُپنشد، برہمنواُپنشد اور مُنڈک اُپنشد کی رو سے چار وید ہیں۔الـخ‘‘ (رسالہ گنگا۔فروری۱۹۳۱ء صفحہ نمبر ۳۲۲) پھر ساہتیہ آچاریہ پنڈت مہیندر مشر صاحب تحریر فرماتے ہیں:۔’’زمانہ کے لحاظ سے، ملک کے لحاظ سے اور تلاوت کے لحاظ سے ان (ویدوں ) میں بہت سا اختلاف ہو گیا ہے۔اور آچاریوں (معلّموں) کی باہمی مخالفت کے باعث اور یگیہ میں ان کے استعمال کی وجہ سے بھی بہت سا اختلاف پڑ گیا ہے۔اس طرح ہر ایک وید مختلف شاکھاؤں (نسخوں) میں منقسم ہو گیا ہے۔رگوید کی بیس یا اکیس شاکھائیں (نسخے) یجروید کی ایک سو ایک شاکھائیں۔سام وید کی ہزار شاکھائیں۔اور اتھرووید کی نو۹ یا پند۱۵رہ شاکھائیں (نسخے) ہیں۔‘‘ (رسالہ گنگا۔جنوری ۱۹۳۲ء صفحہ ۴۸) پھر پنڈت راجا رام صاحب پروفیسر ڈی۔اے۔وی کالج لاہور لکھتے ہیں۔’’سائن آچاریہ نے اس (اتھرووید کانڈ ۱۹) کے ۶۰ تا ۶۳ سُوکتوں کو چھوڑ دیا ہے (ان کی تفسیر نہیں کی) اور ۶۹،۷۰ سُوکتوں کے درمیان رگوید منڈل نمبر ۱ کا سُوکت ۹۹ بھی پایا جاتا ہے۔ہٹبنی نے ایک بڑے مفصّل مضمون میں ثابت کیا ہے۔کہ (اتھرووید کے آخری ۱۹،۲۰ کانڈ) پری ششٹ (ضمیمہ) ہیں۔‘‘ (اتھرووید بھاش جلد دوم صفحہ ۸۳۱) اسی طرح پنڈت وَیدک مُنی صاحب لکھتے ہیں کہ۔’’حقیقت میں جس قدر بری حالت اس اتھرووید کی ہوئی ہے اتنی اور کسی وید کی نہیں ہوئی۔سائن آچاریہ کے بعد بھی کئی سُوکت اس میں ملا دیئے گئے ہیں۔ملانے کا ڈھنگ بہت اچھا سوچا گیا ہے۔وہ یہ کہ پہلے اس کے شروع اور آخر میں اتھ (شروع) اور اِتی (ختم)لکھ دیا جاتا ہے۔جب کسی نے پوچھا تک نہ تب شروع آخر میں اتھ اِتی لکھنا بند کر دیا جاتا ہے۔بس صرف اتنے سے وہ سنگہیتہ (مجموعہ) میں مل جاتا ہے۔جیسے رگوید سنگہیتہ میں بالکھِلیہ سُوکت ملائے جا رہے ہیں۔ویسے ہی اتھرووید کے آخر میں آج کل کُنتاپ سُوکت ملائے جا رہے ہیں۔اگر پوچھا جائے کہ پانچویں انوواک سے لے کر کُنتاپ