تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 67
میں اس کتاب کو مذہب کے بانی نے پیش کیا تھا اسی شکل وصورت میں وہ اب دنیا کے سامنے موجود ہے۔اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خدا تعالیٰ نے ان کتابوں کے متعلق یہ فیصلہ کر دیا تھا کہ وہ مٹ جائیں۔کیونکہ خدا تعالیٰ چاہتاتھا ان کی جگہ اور کتاب نازل کرے۔ورنہ اگر خدا تعالیٰ کا یہ منشا تھا کہ تورات دنیا میں قائم رہے تو جس خدا تعالیٰ نے موسٰی پر تورات نازل کی تھی کیا وہ اس بات پر قادر نہیں تھا کہ اس کے مٹ جانے کی صور ت میں دوبارہ ایک نبی موسٰی جیسا کھڑا کر دیتا۔اور کہتا کہ چونکہ تورات مٹ گئی ہے اس لئے اب میں تجھ پر اصل تورات نازل کرتا ہوں اسے دنیا میں پھیلا۔یا کیا خدا تعالیٰ یہ بھی نہیں کر سکتا تھا کہ جو لوگ تورات کو مٹانے لگے تھے ان کو خود اپنے عذاب سے ہلاک کر دیتا۔اس طرح اگر ژنداوستا قائم رہنے والی چیزیں تھیں اور خدا تعالیٰ کا منشا یہ تھا کہ وہ دنیا میں محفوظ رہیں اور لوگ ان پر عمل کریں تو کیا سکندر کو خدا تعالیٰ اپنے عذاب سے کچل نہیں سکتا تھا۔اگر خدا تعالیٰ کا یہ منشا تھا کہ ویدوں پر ہی عمل کیا جائے تو کیا خدا ان پنڈتوں اور وِدوانوں کو مار نہیں سکتا تھا جنہوں نے وید بدلنے کی کوشش کی۔اگر خدا تعالیٰ کا منشا یہ تھا کہ تورات اپنی اصل صورت میں قائم رہے تو کیا خدا تعالیٰ بخت نصر کو شکست نہیں دے سکتا تھا۔اگر خدا تعالیٰ کا منشا یہ تھا کہ دنیا کا انجیل پر ہی عمل رہے تو کیا اللہ تعالیٰ ان خرابیوں کو جو عیسائیوں نے انجیل میں پیدا کر دیں دور نہیں کر سکتا تھا۔یقیناً خدا تعالیٰ ایسا کر سکتا تھا۔مگر خدا تعالیٰ نے ان تغیرات کو ہونے دیا۔کیونکہ خدا تعالیٰ کا خود یہ منشا تھا کہ یہ کتابیں دنیا میں محفوظ نہ رہیں۔دوسری الہامی کتب کے مقابل قرآن مجید کی حفاظت دوسری طرف ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جن چیزوں کو خدا تعالیٰ بچانے کا ارادہ رکھتا ہے دنیا لاکھ کوشش کرے وہ ان چیزوں کو بگاڑ نہیں سکتی۔جب تک عیسٰیؑ کی تعلیم کو خدا تعالیٰ نے قائم رکھنا چاہا اس نے اس تعلیم کی حفاظت کی۔جب تک زرتشت کی تعلیم سے اس نے کام لینا چاہا اس نے اس تعلیم کو دنیا سے مٹنے نہ دیا۔مگر جب ان کتب کا کام ختم ہو گیا تو ان کتابوں سے اپنی حفاظت بھی اٹھالی۔غرض اللہ تعالیٰ کی سنّت سے یہ ثابت ہے کہ وہ الہامی کتب کو اس وقت تک جب تک وہ دنیا کے لئے مفید اور نفع رساں رہتی ہیں ہر قسم کے تصرّف اور تحریف و الحاق سے محفوظ رکھتا ہے۔مگر جب ان کا کام ختم ہو جاتا ہے تو دنیا ان میں بگاڑ پیدا کرنا شروع کر دیتی ہے۔اسی طرح پیدائشِ عالم میں جو چیزیںعارضی فوائد کی حامل ہوں وہ ایک عرصہ کے بعد سڑ گل جاتی ہیں مگر جو چیزیں لمبے فوائد کی حامل ہوں وہ چلتی چلی جاتی ہیں۔اسی دلیل کا ذکر اللہ تعالیٰ اس آیت میں کرتا ہے اور فرماتا ہے سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰۤى۔ہم تجھے وہ تعلیم دیں گے جسے تو بھولے گا نہیں۔یہاں تُو سے مراد صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نہیں بلکہ ساری اُمّت ِ محمدؐیہ مراد ہے۔اور یہ قرآن کریم کا طریق بیان ہے کہ