تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 64
ایک نبی جو لاکھوں کا سردار تھا۔جس پر لوگ اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے۔اس کی قبر اس وقت تک گم ہی کس طرح ہو سکتی تھی جب تک حکومت کا تسلسل ان میں پایا جاتا تھا۔یہ الفاظ صاف بتا رہے ہیں کہ عزرا نبی کے زمانہ تک سو سال یہود نے جو جلاوطنی کی زندگی بسر کی تھی اس عرصہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قبر بھی مٹ گئی۔جب بنی اسرائیل دوبارہ اپنے ملک میں واپس آئے اور تورات لکھی گئی تو اس وقت لکھنے والوں نے یہ بات بھی بڑھا دی کہ موسٰی کی قبر کا اب نشان نہیں رہا کہ وہ کہاں تھی۔ورنہ وہ شخص جو قوم کا حاکم ہو، جو ایک جماعت کو قائم کرنے والا ہو، جو ان کی طاقتِ سیاسی اور علمی کا مرکز ہو، جو ان کو خاک سے اٹھا کر بامِ رفعت تک پہنچانے والا ہو اس کی قبر مٹ ہی کس طرح سکتی تھی۔ہم تو دیکھتے ہیں ہمارے ملک میں معمولی معمولی پیروں اور فقیروں کی قبریں بھی نہیں مٹتیں اور موسٰی تو خدا کے نبی تھے۔ایک قوم کے امام اور پیشوا تھے۔شرعی نبی تھے۔ان کی قبر اتنی جلدی کس طرح مٹ گئی۔ہندوستان میں حضرت نظام الدین صاحبؒ اولیاء اور حضرت معین الدین صاحب چشتیؒ اور حضرت احمد صاحب سرہندی اور اسی طرح اور بڑے بڑے بزرگوں کے مقابر اب تک موجود ہیں حالانکہ مسلمانوں کی حکومت ہندوستان سے مٹ چکی ہے۔مگر باوجود اس کے کہ اب ایک غیر حکومت ہے ان لوگوں کی قبریں اب تک محفوظ ہیں۔ہاں اگر کوئی وقت ایسا آ جائے کہ ہندو غالب آ جائیں۔وہ مسلمانوں کو ہندوستان میں سے نکال دیں۔ان کے مقدس مقامات کو مٹا دیں اور پھر کسی دوسرے وقت مسلمان اس ملک میں واپس آئیں تو پھر بے شک وہ کہہ سکتے ہیں ہمیں اب یاد نہیں رہا کہ ہمارے فلاں فلاں بزرگ کی کہاں قبر تھی۔پس یہ فقرہ جو استثناء کے آخر میں موجود ہے صاف بتا رہا ہے کہ تورات اس وقت لکھی گئی تھی جب یہود جلاوطنی سے واپس آئے تھے۔اور چونکہ وہ قریبًا ایک سو سال تک باہر رہے اس لئے جب اپنے ملک میں آئے تو انہیں یاد نہ رہا کہ موسٰی کی قبر کہاں تھی۔اسی لئے یہ لکھ دیا گیا کہ اب موسٰی کی قبر کا کہیں پتہ نہیں چلتا۔یہ تورات کی اندرونی شہادت اس امر کا ثبوت ہے کہ تورات مٹ گئی تھی پھر دوبارہ اپنی یادداشت کی بناء پر اسے مرتّب کیا گیا۔ویدوں کے غیر محفوظ ہونے پر ہندوؤں کے پنڈتوں کی شہادتیں ویدوں کا بھی یہی حال ہے۔اوّل تو یہی فیصلہ نہیں ہوتا کہ وید تین ہیں یا چار۔اور پھر وید کے منتروں میں بہت کچھ اختلاف پایا جاتا ہے۔کسی وید میں کوئی منتر موجود ہوتا ہے اور کسی میں موجود نہیں ہوتا۔کسی نسخہ میں وید کے زیادہ منتر ہوتے ہیں اور کسی میں کم۔اس کے علاوہ خود ہندو علماء نے یہ تسلیم کیا ہے کہ وید اپنی اصلی شکل میں محفوظ نہیں بلکہ محرف ومبدّل ہو چکے