تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 40

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ اور سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلٰى۔گویا خدا تعالیٰ نے بتا دیا کہ رکوع میں کس طرح تسبیح کرنی چاہیے اور سجدہ میں کس طرح تسبیح کرنی چاہیے۔ورنہ اس سے پہلے مسلمان رکوع میں اَللّٰھُمَّ لَکَ رَکَعْتُ اور سجدہ میں اَللّٰھُمَّ لَکَ سَـجَدْتُ کہا کرتے تھے۔سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلٰى میں اس طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ چونکہ اعلیٰ اور بلند ہستی کا علم حاصل کرنا چھوٹی ہستیوں کے لئے مشکل ہوتا ہے اس لئے خدائی صفات کے متعلق یہ فیصلہ کرنا کہ ان کی کس رنگ میں تجلّی ہوتی ہے۔کون کون سی باتیں خدا تعالیٰ کی صفات کے منافی ہیں اور کون کون سی باتیں اس کی صفات کے مطابق ہیں یہ انسان کا کام نہیں اور نہ اس میں یہ قوت پائی جاتی ہے کہ وہ اپنی طرف سے خدا تعالیٰ کی صفات کے متعلق اندازے لگانے شروع کر دے اور سمجھ لے کہ وہ ایسا ہو گا۔بلکہ یہ خدا کا کام ہے کہ وہ اپنی وحی کے ذریعہ سے بندوں کو اس قسم کے امور سے آگاہ فرمائے۔اس لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے وحی کا نازل ہونا ضروری ہے۔وہ لوگ جو وحیٔ الٰہی کی ضرورت تسلیم نہیں کرتے وہ بالفاظِ دیگر خدا تعالیٰ کا اپنی عقل سے احاطہ کرنا چاہتے ہیں حالانکہ یہ ناممکن ہے۔خدا تعالیٰ کی ہستی اور اس کی صفات کے متعلق انسان کوئی ایک بات بھی اس وقت تک معلوم نہیں کر سکتا جب تک اللہ تعالیٰ اپنی وحی کے ذریعہ سے ان امور سے خود آگاہ نہ فرمائے اس لئے وحی کا ہونا ضروری ہے۔بغیر وحیٔ الٰہی کے نہ انسان اللہ تعالیٰ کی صفات کو سمجھ سکتا ہے اور نہ اس کے قرب کے راستوں کو اختیار کر سکتا ہے۔پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا ہے کہ تو جس پر وحی نازل ہوئی ہے صفاتِ الٰہیہ کو لوگوں پر ظاہر کر وہ خود اپنی عقل سے ان صفات کو نہیں سمجھ سکتے۔الَّذِيْ خَلَقَ فَسَوّٰىۙ۰۰۳ (وہ) جس نے (انسان کو) پیدا کیا اور (اسے) بے عیب بنایا۔حلّ لُغات۔سوّی۔سَوَّی الشَّیْءَ تَسْوِیَۃً کے معنے ہوتے ہیں جَعَلَہٗ سَـوِیًّا وَصَنَعَہٗ مُسْتَوِیًّا اس کو درست اور عیبوں سے پاک بنایا۔اور سَوّٰی کے معنے یہ بھی ہوتے ہیں کہ عیبوں کو دور کیا۔چنانچہ کہتے ہیں سَوَّیْتُ الْمُعْوَجَّ فَـمَا اسْتَوٰی۔میں نے ٹیڑھے کو سیدھا کرنا چاہا مگر وہ سیدھا نہ ہوا (اقرب ) گویا سَوّٰی کے معنے یہ بھی ہیں کہ اسے ایسا بنا یا کہ اس میں کوئی عیب نہ تھا اور سَوّٰی کے یہ بھی معنے ہیں کہ اس کو جو کج تھا درست کیا۔