تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 39
تشبیہ تب دی جاتی ہے جب کوئی چیز اوپر سے نیچے کی طرف آئے۔مگر جب کوئی چیز اونچی چلی جائے تو اس کے لئے تشبیہات و استعارات استعمال کرنے کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے۔اسی امر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم تیرے لئے ربّ الاعلیٰ ہونے کی حیثیت میں ظاہر ہوئے ہیں۔اس لئے تمام تشبیہات کی تشریحات کر دی گئی ہیں۔اور بتا دیا گیا ہے کہ جب خدا تعالیٰ کو باپ کہا جاتا تھا تو اس کے کیا معنے تھے۔اورجب کسی نبی کو اس کا بیٹا یا اکلوتا بیٹا کہا جاتا تھا تو اس کے کیا معنے تھے۔توحید کیا ہوتی ہے۔شرک کن باتوں سے پیدا ہوتا ہے۔شرک کی کیا کیا قسمیں ہیں۔یہ اور اسی قسم کے تمام مسائل کو ہم نے پوری طرح واضح کر کے رکھ دیا ہے۔اس لئے تو جس طرح ان غلطیوں کو دور کر سکتا ہے پہلے لوگ ان غلطیوں کو دور نہیں کر سکتے تھے۔کیونکہ پہلے انبیاء کے لئے ہم ربّ الاعلیٰ ہونے کی حیثیت میں ظاہر نہیں ہوئے اس کے یہ معنے نہیں کہ وہ اس وقت ربّ الاعلیٰ نہیں تھا بلکہ اس کے صرف اتنے معنے ہیں کہ ظہورِ ربوبیت اعلیٰ اس وقت نہیں ہوا تھا۔لیکن اس وقت ربوبیت اپنے کمال کو پہنچ گئی ہے۔اور شریعت کو ہر لحاظ سے کامل کر دیا گیا ہے۔اس لئے اس کے ہر حکم کی حکمت اور ہر تعلیم کی خوبی کو واضح کر دیا گیا ہے۔اور تیرا فرض ہے کہ تو ان اعتراضات کو دور کرے جو خدا تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات اور اس کی تعلیم وغیرہ کے متعلق کئے جاتے ہیں۔اگر اعلیٰ کو اسم کی صفت قرار دیا جائے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ تیرے رب کا جو اعلیٰ نام ہے اس کی تسبیح کر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے ادنیٰ نام بھی ہیںبلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی تمام صفات اس وقت اعلیٰ رنگ میں ظاہر ہو رہی ہیں۔تیرا کام یہ ہے کہ ہر صفت کا جو اعلیٰ ظہور ہے اسے پیش کر اور ہر صفت پر جو اعتراض پڑتا ہو اسے دور کر تاکہ پہلے تمام اعتراضات مٹ جائیں اور خدا تعالیٰ کا جلال اپنی پوری شان کے ساتھ دنیا پر ظاہر ہو۔سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلٰى کے متعلق یہ امر بھی یاد رکھنا چاہیے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐکے صحابہؓ کا طریق یہ تھا کہ اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے جب وہ رکوع میں جاتے توکہا کرتے اَللّٰھُمَّ لَکَ رَکَعْتُ اور جب سجدہ میں جاتے تو کہتے اَللّٰھُمَّ لَکَ سَـجَدْتُّ مگر جب یہ آیت نازل ہوئی کہ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلٰى تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اِجْعَلُوْھَا فِی سُـجُوْدِکُمْ۔یہ تسبیح سجدہ کے وقت کیا کرو۔اور جب یہ آیت نازل ہوئی کہ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ (الـحاقۃ:۵۳)تو آپؐنے فرمایا اِجْعَلُوْھَا فِیْ رُکُوْعِکُمْ یہ تسبیح رکوع کے وقت کیا کرو۔(مـسنـد احـمـد بن حنبل بروایت عقبہ بن عامر الـجھنی) چنانچہ یہ جو ہم رکوع میں سُـبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ اور سجدہ میں سُـبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کے اسی حکم کے نتیجہ میں کہتے ہیں کہ