تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 41

گویا بے عیب بنانا یا عیب کو دور کر دینا یہ دونوں باتیں تسویہ میں شامل ہیں۔پس الَّذِيْ خَلَقَ فَسَوّٰى کے معنے یہ ہوئے کہ جس خدا نے پیدا کیا اور پھر اس کو بے عیب بنایا یا جس خدا نے پیدا کیا اور پھر عیب پیدا ہونے کی صورت میں ان عیوب کو دور کیا۔تفسیر۔خدا تعالیٰ نے پیدا کیا اور اسے درست اور بے عیب بنایا۔اس کے یہ معنے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو ایسے رنگ میں پیدا کیا ہے کہ اس کے اندر تمام ضروری طاقتیں موجود ہیں اور ترقی کے مادے اس میں پوری طرح پائے جاتے ہیں گویا وہ سب صفات جو انسانی ترقی کے لئے ضروری تھیں اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے مہیا فرما دی ہیں۔اسی بنا پر بائیبل میں آتا ہے:۔’’خدا نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔‘‘ (پیدائش باب ۱ آیت ۲۷) سوّٰی کے یہ معنی کہ انسان میں اعتدال اور ترقی کا مادہ پیدا کیا ہے پس سَوّٰی کے معنے یہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان میں اعتدال اور ترقی کا مادہ پیدا کیا ہے۔ہر قسم کی قابلیتیں اس میں رکھ دی ہیں اور ہر قسم کی ضروریات اس کے لئے مہیا کر دی ہیں اور یہی بے عیب پیدا کرنے کے معنے ہیں۔ورنہ بے عیب پیدا کرنے کے یہ معنے تو نہیں ہو سکتے کہ اس کے اندر خدائی پائی جاتی ہے۔اس کے معنے یہی ہیں کہ انسانی پیدائش میں کوئی چیز ایسی نہیں جس کے متعلق یہ کہا جا سکے کہ وہ لغو اور فضول ہے۔مثلاً آنکھ ہے، یہ بالکل بےکار ہوتی اگر اس کے مقابل میں سورج کی روشنی پیدا نہ کی جاتی مگر اللہ تعالیٰ کا احسان دیکھو کہ اس نے ایک طرف آنکھ پیدا کی تو دوسری طرف سورج کی روشنی پیدا کر دی تا کہ آنکھ کام کر سکے۔اسی طرح تمام جسمِ انسانی کو دیکھ لو ہر چیز کسی نہ کسی غرض کے لئے پیدا کی گئی ہے۔اور اس کا ضرور کوئی نہ کوئی فائدہ ہے۔صرف د۲و چیزیں انسانی جسم میں ایسی ہیں جن کے متعلق ڈاکٹروں کا یہ خیال تھا کہ ان کی کوئی غرض نہیں یہ یوں ہی پیدا کر دی گئیں ہیں۔ایک تو کان کی لَو کے متعلق خیال کیا جاتا تھا کہ یہ کسی خاص غرض کے لئے نہیں ہے۔دوسرے مِعَاءٌ اَعْوَرُ یعنی اپنڈکس کے متعلق یہ خیال کیا جاتا تھا کہ جسمِ انسانی میں اس کا کوئی خاص کام نہیں۔بعض اور چیزیں بھی تھیں جن کے متعلق پہلے زمانہ میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ وہ بے فائدہ پیدا کی گئی ہیںلیکن آہستہ آہستہ ان کی ضرورت کو اطباء نے ظاہر کر دیا۔صرف یہ دو چیزیں رہ گئیں تھیں مگر آج سے چالیس۴۰ پچاس۵۰ سال پہلے مِعَاءٌ اَعْوَرُ کی ضرورت کو بھی ڈاکٹروں نے محسوس کر لیا۔چنانچہ فرانس کے ایک ڈاکٹر نے یہ معلوم کرنے کے لئے کہ آیا مِعَاءٌ اَعْوَرُ کا کوئی فائدہ ہے یا نہیں بارہ بندر لئے