تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 330

بعض لوگ اعتراض کرتے ہوئے کہہ دیا کرتے ہیں کہ ایسا حکم دینا خدا کا کام تھا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کا یہ اختیار نہیں تھا کہ خود بخود ایسا حکم دے دیتے۔ان نادانوں کو یہ معلوم نہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو قرآن کریم کا وہ گہرا علم بخشا گیا تھا جو دنیا میں اور کسی شخص کو عطا نہیں کیا گیا۔آپ نے مدینہ منورہ کے متعلق جو حکم دیا وہ اسی آیت سے ماخوذ تھا کہ لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِ۔وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِ۔وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَ میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کو بسانے والے کی اور میں قسم کھاتا ہوں اس بیٹے کی جو اس شہر میں آکر بسا تھا۔بے شک تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو اس شہر میں سے نکال دو۔مگر یاد رکھو جس شہر میں وہ جائے گا۔اس شہر کو مکہ کا قائم مقام بنا دیا جائے گا اور اسے وہی عزتیں دے دی جائیں گی جو اس شہر کو حاصل ہیں۔مکہ اپنے اس اعزاز میں منفرد نہیںرہے گا۔تیسرے معنے اس کے یہ بھی ہیں کہ وَوَالِدٍ وَّمَا وَلَدَ سے مراد رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اور آپ کی امت ہے۔اور یہ فرمایا گیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اور آپ کی جماعت اس بات پر شاہد ہے کہ خدا تعالیٰ اسلام کو ترقی دینے والا ہے۔جس طرح اس بلد الحرام سے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کا نکلنا اور پھر بڑی شان و شوکت کے ساتھ اس میں واپس آنا اس بات کا ثبوت ہو گا کہ جو باتیں اس کی طرف سے پیش کی جارہی ہیں بالکل درست ہیں۔اسی طرح خود رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اور آپ کی امت اپنی ذات میں اس بات کا ثبوت ہو گی۔کہ ان لوگوں کو کوئی قوم مٹا نہیں سکتی۔دنیا میں دو قسم کی شہادت ہوتی ہے۔ایک اندرونی اور ایک بیرونی۔بیرونی شہادت پھر دو قسم کی ہوتی ہے۔ایک مادی اور ایک روحانی۔مادی شہادت تو یہ ہے کہ ایک شخص کے ساتھ کئی ہزار کا لشکر ہو۔لڑائی کا سازوسامان ان کے پاس موجود ہو۔اطاعت کا مادہ سب میں بدرجہ اتم پایا جاتا ہو۔ایسے انسان کو دیکھ کر ہر شخص اندازہ لگا سکتا ہے کہ یہ ضرور جیت جائے گا کیونکہ کامیابی کے لئے جس قدر سامانوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ سب اس کے پاس موجود ہیں۔روحانی شہادت یہ ہوتی ہے کہ ایک شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے کھڑا ہوتا ہے اور وہ اپنی کامیابی کے متعلق اللہ تعالیٰ سے علم پا کر پیشگوئیاں کرتا ہے۔جو لوگ مومن ہوتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ شخص بہرحال جیت جائے گا۔کیونکہ خدائی وعدے اس کے ساتھ ہیں۔لیکن ایک شہادت اندرونی ہوتی ہے۔جسے انگریزی میں انْ ٹَرِن زِکْ ویلیو INTRINSIC VALUE کہا جاتا ہے۔یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کہتے ہیں ’’ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات ‘‘وہ بظاہر کمزور اور بے حقیقت نظر آتے ہیں۔لیکن ان کے اندر ایسے اوصاف اور ایسی قابلیتیں پائی جاتی ہیں۔اور ان کی اخلاقی طاقت ایسی زبردست