تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 331
ہوتی ہے کہ باوجود ان کے کمزور ہونے کے لوگ یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ ان لوگوں کے مقابل پر کوئی قوم ٹھہر نہیں سکتی۔اس جگہ اللہ تعالیٰ نے ایک طرف تو اسلام کی ترقی کے متعلق پیشگوئیاں بیان کیں اور فرمایا کہ تم خواہ کچھ کہو۔لیکن ہم یوں کہتے ہیں۔یا ابراہیمؑ نے یہ پیشگوئی کی تھی جو بہرحال پوری ہو گی۔اور دوسری طرف فرمایا ہم نہ صرف ان پیشگوئیوں کو پیش کرتے ہیں جو لیالی عشـر میں اور ان لیالی کے گذرنے کے بعد پوری ہو کر اس بات کا ثبوت ہوں گی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دعویٰ سچا ہے۔بلکہ ہم اس کی صداقت اور راستبازی کا اور اس کے دنیا پر ایک دن غالب آ جانے کا تمہارے سامنے ایک اندرونی ثبوت بھی پیش کرتے ہیں کہ تم محمد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اور ان کے اتباع کو دیکھ لو ان کے اندر جو اوصاف پائے جاتے ہیں کیا یہ ہارنے والے لوگوں کے اندر پائے جاتے ہیں۔یا غالب آنے والے لوگوں کے اندر موجود ہوتے ہیں۔گویا وَالِدا ور مَاوَلَد میں اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اور آپ کی جماعت کے کیرکٹر کو پیش کیا ہے اور فرمایا ہے تم ان لوگوں کے کیرکٹر سے اپنا کیرکٹر ملا کر دیکھو۔تمہارا کیرکٹر تو وہ ہے جو ان الفاظ میں بتایا گیا ہے کہ كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْيَتِيْمَ۔وَلَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِيْنِ۔وَ تَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّا۔وَّ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا (الفجر:۱۸تا۲۱) اور یہ بات واضح ہے کہ اس کیرکٹر والے کبھی جیت نہیں سکتے۔اب بتاتا ہے کہ اس وَالِد اور مَاوَلَد کے اندر جو کیرکٹر پائے جاتے ہیں۔اس کیرکٹر کے مالک کبھی ہار نہیں سکتے۔تمہارا کیرکٹر تو یہ تھا کہ یتیم کو پوچھنا نہیں۔مسکین کو کھانا نہیں کھلانا۔جائیدادیں آئیں تو ان کو لٹا دینا یا مال سے اتنی محبت رکھنا کہ ضرورت پر بھی اس کو خرچ نہ کرنا اور انتہائی بخل سے کام لینا۔یعنی ایک طرف تو تمہارے بعض حصۂ قوم میں اتنا اسراف پایا جاتا ہے کہ باپ دادا کی جائیدادیں آتی ہیں تو وہ ان کو تباہ کر دیتے ہیں اور دوسری طرف تم میں سے کچھ لوگوں کے اندر ایسا بخل پایا جاتا ہے کہ مال آئے تو اسے بند کر کے رکھ لیتے ہیں۔گویا کچھ تو ایسے ہیں جو اپنے مال کو بے مصر ف خرچ کرتے ہیں۔اور کچھ وہ افراد ہیں جو بامقصد بھی صرف نہیں کرتے یہ چار قسم کی صفات جس قوم میں ہوں تم خود ہی غور کرو کہ آیا وہ قوم کبھی جیت سکتی ہے۔اس کے مقابل میں تم اس باپ اور اس کے بیٹوں کو دیکھو۔یہاں گو نام بنام ایک ایک صفت کا ذکر نہیں کیا گیا۔مگر تقابل سے صاف ظاہر ہے کہ جن برائیوں کا ذکر دشمنوں کے بارہ میں کیا گیا ہے۔انہی کے مقابل کی نیکیاں ان لوگوں میں پائے جانے کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے۔چونکہ کفار کی برائیاں یہ بیان کی تھیں کہ وہ یتامیٰ کی طرف توجہ نہیں کرتے۔مساکین کو کھانا نہیں کھلاتے۔اسراف میں مبتلا رہتے ہیں۔یا اتنے بخل سے کام لیتے ہیں کہ ضرورت حقہ پر بھی روپیہ خرچ کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔اس جگہ انہی چار عیبوں کے