تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 329
ایک دوسرے سے ملنے کے لئے کوئی آبادی نہیں تھی۔ایک سنسان اور ویران جنگل میں جہاں نہ پانی کا ایک قطرہ تھا اور نہ غذا کا ایک دانہ۔کھلے آسمان کے نیچے خدا پرتوکل کرتے ہوئے وہ دو کمزور اور نحیف و ناتوان جانوں کو چھوڑ گئے اوراس لئے چھوڑ گئے کہ خدا نے ان سے کہا تھا کہ وہ ایسا کریں۔جب انہوں نے خدا کے لئے یہ قربانی کی تو خدا نے بھی آسمان پر ان کی اس قربانی کو قبول فرمایا اور اس نے رفتہ رفتہ وہاں ایک شہر آباد کر دیا۔پھر خدا نے اس مقام کو یہ عظمت دی کہ وہ لوگوں کا مرجع بن گیا۔بیت اللہ کی اس میں تعمیر ہوئی اور اسے ابراہیم علیہ السلام کے ذریعہ یہ شرف بخشا گیا کہ اسے امن و امان کا مرکز قرار دیا گیا۔اس واقعہ کو پیش کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک دن تم بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے شہر میں سے اسی طرح نکال دو گے جس طرح سارہ نے ہاجرہ اور اسمٰعیل کو نکالا تھا۔مگر ہم کو بھی قسم ہے ابراہیمؑ اور اس کے بیٹے اسمٰعیلؑ کی کہ جس طرح وہاں ایک ویران اور سنسان جنگل کو ہم نے ایک عظیم الشان شہر کی شکل میں تبدیل کر دیا تھا اور پھر ہم نے اسے یہاں تک عظمت دی کہ اسے بلد الحرام قرار دے دیا۔اسی طرح جس گاؤں میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم ہجرت کر کے جائیں گے اس گاؤں کو بھی ہم شہر بنا دیں گے اور پھر اس شہر کو بھی یہ عظمت دیں گے کہ اسے مکہ کی طرح بلد الحرام قرار دیں گے پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے اس باپ کی قسم ہے جس نے اپنی بیوی کے کہنے پر اپنے بیٹے کو نکالا۔وہ بیٹا ایسی حالت میں نکلا جبکہ وہ بےکس بے زر اور بے پَر تھا۔کوئی اس کا یار اور مددگار نہیں تھا۔مگر خدا نے اسے رفتہ رفتہ بہت بڑی طاقت کا مالک بنا دیا۔تم بے شک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے شہر میں سے نکال دو۔مگر یاد رکھو پھر مکہ منفرد عزت رکھنے والا شہر نہیں رہے گا۔بلکہ اسی قسم کی عزت والا ایک اور شہر اس کے مقابل میں کھڑا کر دیا جائے گا۔چنانچہ دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو مکہ میں سے نکالا گیا۔مگر آخر آپ کو وہ عظمت حاصل ہوئی کہ آپ نے ایک دن سب لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا اے لوگو جس طرح ابراہیمؑ کے ذریعہ مکہ مکرمہ کو ایک خاص اعزاز بخشا گیا تھا میرے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدینہ کو بھی وہی اعزاز عطا کیا گیا ہے۔جس طرح مکہ میں جان کی عزت کی جاتی ہے اسی طرح مدینہ میں جان کی عزت کی جائے۔جس طرح وہاں درخت کاٹنے جائز نہیں اسی طرح مدینہ میں بھی درختوں کا کاٹنا جائز نہیں۔جس طرح وہاں فتنہ وفساد اور قتل و خونریزی کی سخت ممانعت ہے اسی طرح مدینہ میں بھی فتنہ وفساد اور قتل و خونریزی کی سخت ممانعت ہے۔غرض وہ تمام باتیں جو مکہ کے متعلق تھیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے مدینہ منورہ پر بھی عائد کر دیں۔آخر یہ بھی غور کرنے والی بات ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو مدینہ کو حرم بنانے کا اختیار کس نے دیا تھا۔