تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 328 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 328

بادشاہ کے عربوں کے متعلق مکہ والوں کے اخلاق کودیکھ کر اندازہ تھا اور قیصر کا جو سلوک تھا وہ ابو سفیان والے واقعہ سے ظاہر ہے۔وہ قیصر کے دربار میں پیش ہوا تو اس نے ایک تاجر سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہ سمجھی جسے ضرورت کے موقعہ پر جھوٹ بولنے سے بھی عار نہیں ہوتا۔بلکہ ابوسفیان کی حیثیت تو اتنی بھی ثابت نہیں ہوئی جتنی مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی۔اس نے تو مسٹر ڈگلس سے عدالت میں کہا تھا کہ مجھے کرسی ملنی چاہیے۔مگر ابوسفیان کے منہ سے اتنا بھی نہ نکلا کہ مجھے کرسی دو۔کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر میں نے کرسی کا مطالبہ کیا تو مجھے جوتیاں مار کر نکال دیا جائے گا۔اب بتاؤ کیا وہ ان واقعات کو پیش کر کے کہہ سکتے تھے کہ ابراہیمؑ اور اسمٰعیلؑ کی دعا کا یہ ظہور ہے۔وہ جانتے تھے کہ یہ دعا ابھی پوری ہونے والی ہے۔اور مکہ کو ابھی وہ اعزاز حاصل نہیںہوا جس کا ابراہیمی دعا میں ذکر آتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم ابراہیمؑ اور اسمٰعیلؑ کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ان کی ایک دعا تھی جس کو تم بھی تسلیم کرتے ہو۔تم بتاؤ کہ آخر وہ دعا گئی کہاں۔اس دعا کے مطابق جو اس وقت مدعی کھڑا ہوا ہے تم اس کے متعلق کہتے ہو کہ وہ جھوٹا ہے اگر یہ بھی جھوٹا ہے تو پھر اس دعا کو پورا کون کرے گا اور وہ کون ہوگا جو وَالِد اور وَلَد کی دعاؤں کا مصداق ہو گا۔تم اس کے سوا اور کوئی وجود ایسا پیش نہیں کر سکتے جو ان دعاؤں کے نتیجہ میں ظاہر ہونے کا اعلان کر رہا ہو۔پس ابراہیمؑ اور اسمٰعیل کی دعائیں بڑا بھاری ثبوت ہیں اس بات کاکہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم خدا تعالیٰ کے سچے اور راستباز رسول ہیں۔دوسرے معنے اس کے یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ ہم گذشتہ زمانہ کے ایک واقعہ کو بطور شہادت کے پیش کرتے ہیں۔اور وہ ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے کا واقعہ ہے۔تم اس واقعہ پر غور کرو اور دیکھو کہ اس کو کس طرح ایک بے آب و گیاہ جنگل میں خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت پھینک دیا گیا تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے بچایا اور پروان چڑھایا اور ایک بڑی نسل کا باپ بنایا۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اگر آپ کے رشتہ دار مکہ سے نکال دیں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کی اسی طرح مدد کرے گا جس طرح اسمٰعیل علیہ السلام کی اس نے مدد کی تھی۔وہ لوگ جو بائیبل کا مطالعہ رکھتے ہیں جانتے ہیں کہ بائیبل اس نظریہ کو پیش کرتی ہے کہ حضرت ہاجرہ جو حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی والدہ تھیں ان سے سارہ کی لڑائی ہوئی اور اس نے ناراض ہو کر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے مطالبہ کیا کہ ہاجرہ اور اس کے بیٹے اسمٰعیل کو اپنے گھر سے نکال دو۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے الٰہی اشارات اس کی تائید میں پائے۔چنانچہ ماں اور بیٹے دونوں کو گھر سے نکال کر مکہ کی وادی میں لا کر چھوڑ گئے۔وہ جگہ جہاں ان کو رکھا گیا وہاں کھانے کا کوئی سامان نہ تھا۔پینے کا کوئی سامان نہ تھا۔رہائش کے لئے کوئی جگہ نہ تھی۔وہاں