تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 327
دیتا ہے۔یہ تو قیصر کا ابوسفیان اور اس شہر کے متعلق فیصلہ ہے جس کا وہ نمائندہ تھا۔مگر ابوسفیان کا اپنا فیصلہ اس سے بھی عجیب تر ہے جب ابو سفیان سے یہ مجرموں والا سلوک ہوا تو اس نے ایک لفظ بھی بطور احتجاج کے نہیںکہا۔اگر وہ مکہ کو ایک حکومت قرار دیتا اور اپنے آپ کو واقعی ایک حکومت کا سردار کہتا تو وہ احتجاج کرتا اور کہتا میں ایک حکومت کا رئیس ہوں مجھے اپنے برابر جگہ دو۔مگر وہ خاموشی سے اس ذلت کو برداشت کر لیتا ہے۔علاوہ ازیں ہم دیکھتے ہیں کہ جب قیصر کے دربار میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کا خط پیش ہوا اور اس نے لوگوں کو بتایا کہ مجھے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے لکھا ہے کہ میں اس پر ایمان لے آؤں۔بتاؤ اس بارہ میں تمہاری کیا رائے ہے۔تو ابوسفیان محض اس خط کے لکھنے سے ہی مرعوب ہو گیا اور اس نے ساتھیوں سے کہا لَقَدْ اَمِرَ اَمْرُ ابْنِ اَبِیْ کَبْشَۃَ (صحیح بـخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم) کہ محمد (رسول اللہ) تو بہت بڑا ہو گیا ہے اس نے قیصر کو خط لکھ دیا ہے۔اور وہ اس خط کی طرف توجہ دے رہا ہے۔یہ اس کی حیثیت ہے کہ وہ ایک قوم کا بادشاہ ہے اور پھر اس بات پر حیران ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیصر کو خط لکھ دیا۔اگر حقیقی بادشاہ ہوتا تو اس کے لئے اس میں تعجب کی کون سی بات تھی کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے قیصر کو خط لکھ دیا ہے۔اگر کہو کہ اس نے خط لکھنے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس وجہ سے یہ الفاظ کہے تھے کہ قیصر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے خط سے متاثر ہوا تھا۔تو بہرحال اس سے بھی پتہ لگ سکتا ہے کہ مکہ والے اپنی کیا شان سمجھتے تھے۔اگر تو وہ خط لکھنے سے متاثر ہوا ہے تو یہ بہت ہی گھٹیا بات ہے۔اور اگر وہ اس بات سے متاثر ہوا ہے کہ ہم تو بالکل معمولی تھے۔ہماری دنیا کی نگاہ میں کوئی عزت نہیں تھی۔اب محمد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم ایک ایسا شخص پیدا ہو گیا ہے جس کی وجہ سے قیصر بھی مرعوب ہونے لگ گیا ہے۔تو یہ بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ مکہ والے تسلیم کرتے تھے کہ ابھی ابراہیمی دعا پوری نہیں ہوئی۔اگر ابراہیم کی دعا پوری ہو چکی ہوتی اور اگر عرب ما نتے کہ مکہ ساری دنیا کی نگاہ میں ایک غیر معمولی عظمت رکھتا ہے تو کیا ابراہیمؑ اور اسمٰعیلؑ کی دعا پوری ہو جانے کا وہ یہی ثبوت پیش کرتے کہ ہمارا بادشاہ ابوسفیان قیصر کے دربار میں پیش ہوا اور اس سے یہ سلوک ہوا۔یا کیا عتبہ اور شیبہ اور دوسرے بڑے بڑے عمائد اپنی عزت اور اقتدار کا کوئی ثبوت پیش کر سکتے تھے۔اہل عرب کو دنیا کی نگاہ میں جو عزت حاصل تھی اس کا اندازہ تو اسی سے ہو جاتا ہے کہ ایران کے بادشاہ نے مسلمانوں کے حملہ کے وقت اسلامی لشکر کو یہ پیشکش کی تھی کہ ایک ایک اشرفی لے لو اور واپس چلے جاؤ۔وہ سمجھتا تھا کہ عرب کے لوگ ایسے ذلیل ہیں کہ ایک ایک اشرفی دے کر ان کو خریدا جا سکتا ہے۔یہ ایران کے