تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 326

اس کے متعلق خود تاریخی شہادات بھی موجود ہیں۔جس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ عرب والوں کو کیسی تحقیر کی نگاہوں سے دیکھا جاتا تھا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے قیصر کو تبلیغی خط لکھا اور وہ اسے پہنچا تو وہ اس خط کو پڑھ کر خاص طور پر متاثر ہوا اور اس نے درباریوں سے کہا کہ اس خط کا لکھنے والا بڑا دلیر انسان معلوم ہوتا ہے۔لوگوں سے پتہ لگانا چاہیے کہ یہ کون ہے کیا دعویٰ کرتا ہے اور اس کے ساتھ کیا کیا واقعات گذرے ہیں۔اگر مکہ کے کوئی آدمی یہاں آئے ہوئے ہوں تو ان کو میرے دربار میں پیش کیا جائے تاکہ میں ان سے اس خط کے لکھنے والے کے حالات دریافت کروں۔اتفاق کی بات ہے اللہ تعالیٰ نے چونکہ مکہ والوں پر حجت تمام کرنی تھی۔ابوسفیان ایک تجارتی قافلہ کے ساتھ وہاں موجود تھا۔لوگوں نے اسے بادشاہ کے دربار میں پیش کر دیا۔ابوسفیان وہ شخص تھا جو مکہ کا کمانڈر تھا۔اہل مکہ کا سردار تھا۔وہ قیصر کے دربار میں پیش کیا گیا۔مگر اس طور پر نہیں کہ مقابل کی حکومت کا کوئی بادشاہ آیا ہو۔اس طور پر بھی نہیں کہ کسی چھوٹی حکومت کا کوئی سردار آیا ہو۔اس طور پر بھی نہیں کہ مقابل کی کسی حکومت کا کوئی جرنیل آیا ہو۔بلکہ اس طور پر اسے قیصر کے سامنے پیش کیا گیا جس طرح ایک مجرم کو کسی بادشاہ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ابوسفیان پیش ہوا تو بادشاہ نے بعض دوسرے لوگوں سے جو اس کے ساتھ تھے کہا کہ میں اس سے بعض سوالات کروں گا۔اگر یہ ان سوالات کا سچ سچ جوا ب دے تو تم چپ رہنا لیکن اگر کسی بات کا جواب دیتے ہوئے جھوٹ بولے تو فوراً مجھے بتانا کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے (صحیح بـخاری کتاب بدء الوحی باب کیف کان بدء الوحی الی رسول اللہ صلی اللہ وسلم )۔یہ کیسی ذلت ہے جو قیصر کے دربار میں پہنچتے ہی ابوسفیان کو پہنچی یہ وہ شخص ہے جو اپنے آپ کو مکہ کا بادشاہ سمجھتا تھا۔یہ وہ شخص ہے جسے قوم نے منتخب کر کے اپنا لیڈر بنایا ہوا تھا۔یہ وہ شخص ہے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے مقابلہ میں اپنی قوم کے لیڈر کے طور پر پیش ہوتا تھا۔یہ وہ شخص ہے جس کو مکہ سے تعلق رکھنے والے عربوں نے اکٹھے ہو کر اپنا رئیس منتخب کیا ہوا تھا۔یہ قیصر کے دربار میں پیش ہوتا ہے تو وہ یہ تسلیم نہیں کرتا کہ یہ کسی بالمقابل حکومت کا بادشاہ ہے۔قیصر یہ بھی تسلیم نہیں کرتا کہ یہ کسی ریاست کا مالک ہے۔قیصر یہ بھی تسلیم نہیں کرتا کہ یہ کسی فوج کا کمانڈر ہے کیونکہ وہ یہ ماننے کے لئے تیار نہیں تھا کہ عرب کوئی بالمقابل حکومت ہے۔وہ یہ ماننے کے لئے تیار نہیں تھا کہ عرب کوئی ریاست ہے۔وہ یہ ماننے کے لئے تیار نہیں تھا کہ عرب کوئی منظم قوم ہے جس کا کمانڈر ابوسفیان ہے وہ اسے تخت پر نہیں بٹھاتا۔وہ اسے کرسی پر نہیں بٹھاتا۔اسے کسی چیز پر بھی بیٹھنے کی اجازت نہیں دیتا۔بلکہ اسے اپنے سامنے کھڑا ہونے کا حکم دیتا ہے۔اور وہ اسے صرف ایک معمولی تاجر کی حیثیت