تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 325 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 325

شرک میں ملوث نہیں سمجھتے تھے۔دوسرا جواب یہ ہے کہ بے شک مذہب ایک ایسی چیز ہے جو زیر بحث ہوتی ہے اورا س میں بہت کچھ اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں۔لیکن اور مذہبی اختلافات کو نظر کرتے ہوئے اس حقیقت سے بھی کبھی اغماض نہیں کیا جا سکتا کہ وہ لوگ اس بات کے قائل تھے کہ خانہ کعبہ کی بنیاد کے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک دعا کی تھی اور وہ دعا بہرحال پوری ہونی چاہیے۔مگر جو کچھ اس وقت مکہ کی حالت تھی اس کے لحاظ سے وہ قطعی طور پر ایک منٹ کے لئے بھی یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ مکہ کا وجود ابراہیمی دعا کا مصداق ہے۔کیونکہ دعا یہ تھی کہ خدا مکہ کو ساری دنیا کا مرجع بنا دے۔وہ مذہبی لحاظ سے تو کہہ سکتے تھے کہ ہم سچے ہیں۔وہ یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ ہم اگر شرک کرتے ہیں اگر لات اور مناۃ اور عزّیٰ کی پرستش کرتے ہیں تو اچھا کرتے ہیں۔مگر کیا مکہ والے یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ عرب ساری دنیا کا مرکز ہے اور ابراہیمؑ کی دعا پوری ہو چکی ہے۔ان کو نظر آ رہا تھا کہ یہ خانہ ابھی خالی ہے اور مکہ کو ابھی تک وہ اعزازحاصل نہیں ہوا جس کے لئے ابراہیمؑ نے خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت دعا کی تھی۔وہ دنیاوی طور پر معمولی حیثیت کے لوگ جن کو عرب میں بھی کوئی خاص عزت حاصل نہیں تھی کجا یہ کہ بیرونی دنیا کی نگاہ میں ان کو کوئی خاص اعزاز حاصل ہوتا ان کا اپنے آپ کو ابراہیم اور اسمٰعیل کی دعا کا مصداق قرار دینا تو بڑی بات ہے وہ تو یہ بھی نہیں کہہ سکتے تھے کہ عرب پر ہی انہیں کوئی دبدبہ اور حکومت حاصل ہے۔پس انہیں یہ تسلیم کرنا پڑتا تھا کہ روحانی لحاظ سے ابھی مکہ کی عظمت اور اس کی شان وشوکت میں اضافہ ہونے والا ہے ابھی ایک خلا باقی ہے جس نے پُر ہونا ہے۔ابھی اس نے دنیا جہان کا مرکز بننا ہے۔ابھی اسے یہ اعزاز حاصل ہونا ہے کہ دنیا کے چاروں طرف سے لوگ یہاں آئیں۔یہ عظمت مکہ کو پہلے کہاں حاصل تھی۔بے شک عرب لوگ حج کے لئے مکہ میں آتے تھے۔مگر دنیا کے چاروں اطراف سے ہر ملک اور ہر علاقہ کے لوگ مکہ میں نہیں آتے تھے۔وہ ایک ملک کا مرکز تو کہلا سکتا تھا مگر ساری دنیا کا مرکز نہیں تھا۔حالانکہ ابراہیمی دعا یہ تھی کہ خدا اسے دنیا کا مرکز بنا دے۔خدا اس میں تمام عالم کے اطراف سے لوگوں کو کھینچ کھینچ کر لائے اب کجا مکہ کی وہ حالت اور کجا ابراہیم علیہ السلام کی یہ دعا صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ ابھی مکہ اپنے اصل اعزاز سے بہت پیچھے تھا۔ابراہیمؑ کی دعا ابھی پوری ہونے والی تھی اسمٰعیلؑ کی قربانی ابھی اپنا پھل دینے والی تھی اور مکہ کو ابھی وہ طاقت حاصل ہونے والی تھی جب اسے ساری دنیا کا مرکز قرار دیا جانے والا تھا۔پس مکہ والے یہ کہہ ہی نہیں سکتے تھے کہ ابراہیمؑ کی دعا پوری ہو چکی ہے۔وہ جانتے تھے کہ بےشک حج کے لئے عرب لوگ مکہ میں آ جاتے ہیں مگر بیرونی دنیا کی نگاہ میں انہیں کوئی اعزاز حاصل نہیں چنانچہ