تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 315 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 315

رہی تھی۔اب تیرے آنے کے بعد خدا تعالیٰ کے نشانات کا ایسا ظہور ہو گا جو دنیا میں اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔غرض ایک مختصر سے فقرہ میں اللہ تعالیٰ نے لیالی عشـر کی بھی تشریح کر دی لیالی عشـر کے بعد ظاہر ہونے والی پہلی فجر کی بھی تشریح کر دی۔اور پھر اس دوسری فجر کی بھی تشریح کر دی جو گیارہویں رات کے اختتام پر جنگ بدر سے شروع ہوئی اور جس کا انتہا فتح مکہ پر ہوا۔ان لوگوں کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اور آپ کے صحابہؓ کا مکہ کی فتح کے لئے آنا کتنی حیرت و استعجاب کی بات تھی۔اس کا کچھ اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ مکہ کے لوگ اس امید میں بیٹھے تھے کہ ابو سفیان محمد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم سے ایک نیا معاہدہ کر کے آ رہا ہے۔وہ رات کو اس امید میں سوئے کہ ابوسفیان ہمارے لئے امن کا پیغام لا رہا ہے۔مگر آدھی رات کے وقت جب کہ وہ میٹھی نیند سو رہے تھے۔ابوسفیان گھوڑا دوڑاتے ہوئے مکہ میں داخل ہوا۔اور بلند آواز سے پکارنا شروع کر دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم دس ہزار صحابہ سمیت مکہ کی طرف بڑھتے چلے آرہے ہیں۔مگر میں ان سے یہ رعائت لے کر آیا ہوں کہ جو شخص اپنے گھر کے دروازے بند کرلے گا۔اور ان کے مقابلہ کے لئے باہر نہیں نکلے گا اسے کچھ نہیں کہا جائے گا۔لیکن جو شخص گلیوں میں پھرے گا یا تلوار لے کر مقابلہ کے لئے کھڑا ہو گا وہ اپنی جان کا آپ ذمہ دار ہوگا۔(السیرۃ النبویۃ لابن ھشام زیر عنوان ’’اسلام ابی سفیان بن الـحارث و عبد اللہ بن امیۃ‘‘) اب کجا تو یہ حالت تھی کہ وہ مکہ والوں کی طرف سے صلح کا سفیر بن کر گیا تھا۔اور کجا یہ حالت ہے کہ جب وہ واپس آیا تو ایسی حالت میں کہ اس نے اپنی قوم سے کہا۔محمد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کا لشکر فاتحانہ طور پر مکہ میں داخل ہو رہا ہے۔میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ تمہارے لئے میں بعض مراعات لے کر آیا ہوں اور پھر اس نے ان مراعات کا ان الفا ظ میں اعلان کیا کہ جو شخص اپنے گھر کے دروازے بند کر کے بیٹھ رہے گا۔اس کی جان بخشی کی جائے گی لیکن اگر کوئی باہر نکلا یا اس نے مسلمانوں کا مقابلہ کیا تو وہ اپنی جان کا آپ ذمہ وار ہو گا۔چنانچہ ایک طرف سے خالدؓ اپنی فوجوں سمیت مکہ میں داخل ہوئے۔دوسری طرف سے زبیر اور سعد بن عبادہ اپنے دستے لے کر بڑھے اور تیسری طرف سے محمد صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم بغیر کسی لشکر کے بغیر کسی جاہ وحشم کے اکیلے مکہ میں داخل ہوئے۔آپ کا اکیلے مکہ میں داخل ہونا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔مکہ والے جانتے تھے کہ یہ اکیلا داخلہ لشکر سمیت داخلہ سے ہزارہا گنا زیادہ شاندار ہے۔کیونکہ گو آپ اکیلے تھے مگر زبانِ حال سے مکہ والوں کو کہہ رہے تھے۔کہ دیکھو گو میں لشکر کے بغیر مکہ میں داخل ہو رہا