تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 316
ہوں۔مگر آج مجھے نظر بد سے دیکھنے کی تم میں جرأت نہیں ہے۔میرے دائیں اور بائیں خدا تعالیٰ کے فرشتے حفاظت کے لئے کھڑے ہیں اور میں توبہ کا پیغام لے کر تمہاری طرف آ رہا ہوں۔اب چاہو تو توبہ کو قبول کر کے خدا تعالیٰ کی فوج میں شامل ہو جاؤ اور چاہو تو ان فرشتوں کی تلوار کا شکار ہو جاؤ جو دائیں طرف سے بھی مکہ میں داخل ہو رہے ہیں اور بائیں طرف سے بھی مکہ میں داخل ہو رہے ہیں۔وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَۙ۰۰۴ اور باپ کی بھی اور بیٹے کی بھی (قسم کھاتا ہوں) تفسیر۔حضرت ابن عباسؓ نے کہا ہے کہ وَالِدٍ وَّمَاوَلَدَ سے مراد سب جاندار ہیں۔یعنی میں اس بلد کو بھی پیش کرتا ہوں اور تمام جانداروں کو بھی بطور شہادت پیش کرتا ہوں۔مجاہد کہتے ہیں کہ اس سے مراد آدم اور ان کی ساری اولاد ہے یعنی میں اس بلد کو بھی پیش کرتا ہوں اور میں تمام دنیا کے باپ اور اس کی اولاد یعنی تمام بنی نوع انسان کو بھی بطور ثبوت پیش کرتا ہوں۔بعض کہتے ہیں کہ اس سے مراد تمام صلحاء اور ان کی اولادیں ہیں۔یعنی میں اس بلد الحرام کو بھی جس کا مقصود تو ہے یا جس میں تو ہر تیر کا نشانہ بننے والا ہے یا جس میں تو اترنے والا ہے یا جسے تیرے لئے حلال کیا جانے والا ہے اس کو بھی بطور شہادت پیش کرتا ہوں۔اور تمام صلحاء اور ان کی اولادوں کو بھی بطور شہادت پیش کرتا ہوں۔بعض کہتے ہیں کہ اس سے نوح اور ان کی اولاد مراد ہے۔ابو عمران الحوفی کہتے ہیں کہ اس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی سب اولاد مراد ہے۔طبری اور ماوردی کا قول ہے کہ وَالِد سے مراد رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم ہیں اور مَاوَلَدَ سے مراد آپ کی امت ہے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم فرماتے ہیں اَنَا لَکُمْ بِـمَنْـزِلَۃِ الْوَالِدِ میرا تعلق تم سے ایسا ہی ہے جیسے باپ کا اپنی اولاد سے ہوتا ہے۔اسی طرح قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْ (الاحزاب:۷) رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی بیویاں مومنوں کی مائیں ہیں۔جب وہ مائیں ہوئیں تو وہ شخص جس کے تعلق کی وجہ سے وہ ہماری مائیں بنی ہیں بدرجہ اولیٰ ہمارا باپ ہوا۔پس قرآن کریم نے بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو والد قرار دیا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم خود بھی فرماتے ہیں کہ اَنَا لَکُمْ بِـمَنْـزِلَۃِ الْوَالِدِ میرا تعلق تم سے ایسا ہی ہے جیسے باپ کا اپنی اولاد سے ہوتا ہے(التفسیر البحر المحیط زیر آیت ’’وَ وَالِدٍ وَّ مَا وَلَدَ‘‘)۔