تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 314 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 314

پوری ہوتی۔مگر آپ کا داخلہ دو پیشگوئیوں کو پورا کرنے کا موجب بنا۔یعنی نہ صرف آپ مکہ میں داخل ہو ئے بلکہ الٰہی پیشگوئی کے مطابق مکہ کی حرمت کو توڑتے ہوئے اس میں داخل ہوئے دنیا کی گذشتہ ۲۵سو سال کی تاریخ میں کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ کوئی شخص تلوار کے زور سے مکہ کو فتح کرنے میں کامیاب ہوا ہو۔ابرہہ آیا اور اس نے تلوار کے زور سے مکہ میں داخل ہونا چاہا مگر خدا نے اسے تباہ کر دیا۔لیکن فرماتا ہے اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے لئے اس شہر کو حلال کر دیا جائے گا اور تیرے ذریعہ اس شہر کو تلوار کے زور سے فتح کیا جائے گا۔مکہ والوں کا یقین ہے کہ کوئی شخص تلوار کے زور سے اس شہر کو فتح نہیں کر سکتا۔مگر ہمارا تجھ سے نہ صرف یہ وعدہ ہے کہ ہم تجھے واپس لائیں گے بلکہ یہ بھی وعدہ ہے کہ ہم تلوار کے زور سے واپس لائیں گے تا کہ مکہ والوں کا جو یہ عقیدہ ہے کہ کوئی شخص تلوار سے مکہ کو فتح نہیں کر سکتا وہ تیرے ذریعہ سے باطل کر دیا جائے۔مگر نہ اس لئے کہ مکہ کو حفاظت حاصل نہیں بلکہ اس لئے کہ جس نے مکہ کی حفاظت کی تھی وہ بھی میں تھا اور جو تلوار کے زور سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس شہر میں لایا وہ بھی میں ہی ہوں۔پانچویں یہ بتایا کہ اس شہر کو ہم اوپر کی باتوں کے لئے بطور شہادت پیش کرتے ہیں۔جب کہ تو اس شہر کی بنیاد کا مقصود ہے یعنی ایسی حالت میں کہ مکہ کا مقصود تو ہے۔ہم اسے شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔اور دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جب کہ شروع دن سے ظہور محمدی مکہ مکرمہ کے قیام کا موجب تھا۔تو اب یہ لوگ کس طرح خیال کر سکتے ہیں کہ صدیوں سے ایک مقصد کی طرف دنیا کو لاتے ہوئے عین جب اس مقصد کے پورا کرنے کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ اسے بھلا دے گا اور اس مقصود کا ساتھ چھوڑ دے گا۔اگر خدا نے اس وقت مکہ کو لوگوں کا مرجع بنا دیا جب مکہ کا تاج اس کے سر پر نہیں تھا۔اگر خدا نے اس وقت مکہ کو ہر طرف سے رزق مہیا کیا جب مکہ کا تاج اس کے سر پر نہیں تھا۔اگر خدا نے اس وقت مکہ کو بڑا شہر بنایا جب مکہ کا تاج اس کے سر پر نہیں تھا اور اگر خدا نے اس وقت مکہ کو ہر قسم کی لڑائیوں سے محفوظ رکھا۔جب مکہ کا تاج اس کے سر پر نہیں تھا۔تو اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم تو جو مکہ کا مقصود اور سرتاج ہے تیرے آنے کے بعد اب یہ نشانات کس طرح مٹ سکتے ہیں۔یہ نشانات اور بھی ظاہر ہوں گے اور آئندہ رونما ہونے والی پیشگوئیاں نہ صرف تیری صداقت کا ایک زندہ نشان ہوں گی۔بلکہ خود مکہ ان پیشگوئیوں کے ذریعہ اور زیادہ عزت پائے گا۔اور خدا تعالیٰ کے کلام کے لئے دنیا کے سامنے ایک زبردست شہادت مہیا کرے گا۔کیونکہ تو مقصود ہے مکہ کا، تو سرتاج ہے مکہ کا اور تیری طرف ہی ہزارہا سال کے تاریخی واقعات کی انگلی اشارہ کر