تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 313

رہی تھی اور کفار نے یہ ارادہ کیا ہوا تھا کہ ان کو زندہ نہ چھوڑا جائے۔مگر پھر آٹھ سال کے بعد اسی مکہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم ایک فاتح کی حیثیت میں واپس آئے۔آٹھ سال میں تو ایک ڈاکو بھی پوری طرح تیار نہیں ہوتا۔مگر یہاں یہ خبر دی گئی تھی کہ آٹھ سال کے اندر محمدر سول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم جو صرف ایک ساتھی کے ساتھ مکہ سے رات کے وقت بھاگے تھے اور جن کو زندہ یا مردہ پکڑلانے پر انعام مقررتھا۔وہ آٹھویں سال مکہ میں داخل ہوں گے ایک فاتح جرنیل کی حیثیت میں داخل ہوں گے اور ایسی حالت میں داخل ہوں گے کہ قیدار کی ساری حشمت تباہ ہو چکی ہو گی۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔اور آپ اللہ تعالیٰ کی تائید اور اس کی نصرت کے ساتھ اسلام کی فتح کا جھنڈا اڑاتے ہوئے مکہ میں داخل ہوئے اور یہ پیشگوئی بڑی شان کے ساتھ پوری ہوئی کہ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِ (اَشْھَدُ اَنْ لَّاۤاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُـحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ) دیکھو یہاں کس طرح ابتدائی زمانہ میں ہی فجر کے معنی بھی کر دئیے یعنی ہجرت اور ایک ہی وقت میں دوسری کامل فجر جو بدر سے شروع ہوئی اور فتح مکہ پر مکمل ہوئی۔اس کا بھی ذکر کر دیا کہ دوسرا ثبوت مکہ ہماری باتوں کی درستی کا اس طرح دے گا کہ تو اس شہر میں پھر نازل ہو گا اور پھر اللہ تعالیٰ کا جلال اور اس کی قدرت کا ایک عظیم الشان نشان تیرے ذریعہ سے مکہ میں نظر آنے لگ جائے گا۔پھر اللہ تعالیٰ اس بات کو شہادت کے طور پر پیش کرتا ہے کہ یہ مکہ ایک لمبے عرصہ سے محفوظ چلا آتا تھا۔جب لوگ بت پرست اور دین سے غافل تھے۔اس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے ابرہہ سے اس کی حفاظت کی۔مگر اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے ہاتھوں سے قہراً فتح ہو گا۔اور نہ صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کا داخلہ آپ کی سچائی کا ثبوت ہو گا بلکہ قہراً داخلہ دوسری دلیل مہیا کرے گا کہ اگر خدا تعالیٰ ان کے ساتھ نہیں تو ان کو مکہ میں قہراً داخل ہونے کی اس نے کیوں اجازت دی۔گویا علاوہ داخلہ کی پیشگوئی کے پورا ہونے کے یہ مزید دلیل ہو گی اس ا مر کی کہ آپ سچے ہیں جو بات ابرہہ کو نصیب نہ ہوئی۔وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو نصیب ہوگئی۔ابرہہ آیا تو خدا تعالیٰ نے اسے اپنے عظیم الشان لشکر سمیت تباہ کر دیا اور اسے مکہ میں داخل نہ ہونے دیا۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار کا لشکر لے کر مکہ کی طرف آئے تو خدا نے آپ کو اپنے لشکر سمیت مکہ میں داخل کردیا۔یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کا نہ صرف مکہ میں داخلہ ایک پیشگوئی کوپورا کرنے والا ہے بلکہ آپ کا تلوار کے زور سے مکہ میں داخل ہونا ایک دوسری پیشگوئی کو پورا کرنے والا ہے۔اگر بالفرض مکہ والے آپ سے کہتے کہ آپ اپنے شہر میں واپس آ جائیں اور آپ واپس آ جاتے تو اس سے صرف ایک پیشگوئی