تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 26
قسم کا رب ہوتا ہے۔اور یہ سب اپنے اپنے دائرہ میں دوسروں کی ربوبیت کرتے ہیں۔پس چونکہ اور لوگ بھی اللہ تعالیٰ کی صفتِ ربوبیت میں شریک ہوتے ہیں اس لئے یہاں صرف رب کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا بلکہ رب کے ساتھ اعلیٰ کا بطور صفت ذکر کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ گو اور لوگوں کو بھی نام کے لحاظ سے اس صفت میں اشتراک حاصل ہوتا ہے مگر تیرا رب وہ ہے جو اعلیٰ ہے اور دوسروں کے رب وہ ہیں جو ادنیٰ ہیں۔ان کی ربوبیتیں سخت ناقص ہوتی ہیں مگر خدا تعالیٰ کی ربوبیت ہر لحاظ سے کامل ہوتی ہے۔پس سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلٰى فرما کر حکم دیا کہ خدا تعالیٰ کی ربوبیت پر جو اعتراضات وارد ہوتے ہیں ان کو تودور کر کیونکہ فعل میں ایک ناقص اشتراک ہونے کی وجہ سے دوسری ناقص ربوبیتوں کو دیکھتے ہوئے جو اعتراضات پیدا ہوتے ہیں لوگ ان کو خدا تعالیٰ کی طرف بھی منسوب کر دیتے ہیں یا سمجھ لیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ بھی ایسا ہی کرتا ہو گا۔پس اشتراک نام سے جو اشتباہ پیدا ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کی نسبت غلط خیالات لوگوں میں پھیل جاتے ہیں تو ان کو دور کر۔جیسے ناقص تربیت کرنے والا استاد گو مربّی ہوتا ہے مگر بعض دفعہ بجائے مفید ہونے کے اس کی تربیت کئی قسم کے نقائص پیدا کرنے کا موجب بن جاتی ہے۔یا ماں باپ کھانا کھلاتے ہیں، پانی پلاتے ہیں، کپڑے پہناتے ہیں، ہر قسم کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں مگر بعض دفعہ لاڈ اور چاؤ میں بچوں کے اخلاق بگاڑ دیتے ہیں۔پس بے شک وہ بھی رب ہیں مگر ان کی ربوبیت بعض دفعہ ناقص ثابت ہوتی ہے اور انسان بجائے فائدہ اٹھانے کے کئی قسم کی خرابیوںمیں مبتلا ہو جاتا ہے۔مگر فرماتا ہے ہماری ربوبیت میں کسی قسم کا نقص نہیں اس لئے تو لوگوں کو بتا کہ بے شک ربوبیت کے نام میں لوگ خدا تعالیٰ کے شریک ہو جاتے ہیںلیکن جس خدا کو میں پیش کرتا ہوں وہ اعلیٰ ہے اس کی ربوبیت کے کسی شعبہ میں بھی نقص نہیں پایا جاتا۔وہ اگر تعلیم دیتا ہے تو غیر ناقص تعلیم دیتا ہے۔سامان مہیا کرتا ہے تو ایسے سامان ہی مہیا کرتا ہے جو ضروری ہوتے ہیں ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ اس کی ربوبیت ناقص ہو۔جن سامانوں کی ضرورت ہو وہ مہیا نہ کرے یا جن سامانوں کی ضرورت نہ ہو ان کو مہیا کر دے۔ماں باپ کی تربیت میں یہ نقص ہوتا ہے کہ وہ بعض دفعہ صحیح ضرورت کو نہیں پہچانتے۔ایسے وقت میں غذا دے دیتے ہیں جب غذا دینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔یا اس وقت بچے کو غذا نہیں دیتے جب اسے غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔بچے زیادہ تر اسی لئے بیمار ہوتے ہیں کہ ماں باپ ان کی غور وپرداخت اور پرورش میں غلطیوں کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں۔بعض دفعہ بچے کو دودھ کی ضرورت ہوتی ہے مگر ماں اسے دودھ نہیں پلاتی۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ کمزور اور نحیف ہو جاتا ہے اور بعض دفعہ اسے دودھ کی ضرورت نہیں ہوتی مگر ذرا سا رونے پروہ اسے دودھ پلانا شروع کر دیتی ہے جس سے اس کے معدہ میں کئی قسم کی خرابیاں