تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 27

پیدا ہو جاتی ہیں یا بعض دفعہ بچہ ایسی عمر کو پہنچ جاتا ہے جب اسے ٹھوس غذا کھلانی چاہیے مگر ماں اسے دودھ ہی پلاتی جاتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آپ بھی کمزور ہو جاتی ہے اور بچہ بھی ٹھوس غذا کو ہضم کرنے کی قوت کو کھو بیٹھتا ہے۔دودھ ہمیشہ کے لئے غذا نہیں بلکہ صرف ایک وقت تک کےلئے غذا ہے۔اگر اس وقت کے گذرنے کے بعد بھی بچے کو دودھ پلایا جائے تو اس کے معدہ میں اس قسم کی کمزوری پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ ٹھوس غذا ہضم نہیں کر سکتا۔اسے سیّال غذا کی ہی عادت رہتی ہے۔ذرا ٹھوس غذا اندر جائے تو اسہال شروع ہو جاتے ہیں۔بڑوں کو دیکھ لو جب کوئی بیمار ہو اور دس پندرہ دن دودھ یا چاول استعمال کرتا رہے تو اس کے بعد جب وہ روٹی کھانا شروع کرتا ہے تو ابتدا میں اسے بدہضمی ہو جاتی ہے کیونکہ سیّال غذا استعمال کرنے کی وجہ سے معدہ کمزور ہو جاتا ہے۔اسی طرح دودھ بے شک ایک اچھی غذا ہے مگر بچے کے لئے خدا تعالیٰ نے ڈیڑھ دو سال تک ہی اسے غذا بنایا ہے اگر بعد میں بھی دودھ جاری رکھا جائے جیسا کہ ناواجب محبت کرنے والی مائیں بعض دفعہ تین تین چار چار پانچ پانچ بلکہ سات سات سال تک دودھ پلاتی چلی جاتی ہیں تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اوّل تو دودھ خراب ہو جاتا ہے اور وہ بچے کو بیمار کر دیتا ہے دوسرے اس کے معدے کو سخت غذائیں ہضم کرنے کی عادت نہیں پڑتی اور اس کا معدہ ہمیشہ کے لئے کمزور ہو جاتا ہے جس طرح بڑی عمر کے آدمی کو اگر ٹھوس غذا نہ ملے تو وہ کمزور ہوجاتا ہے اسی طرح بچے کو جب ٹھوس غذا کی ضرورت ہو اگر دودھ پر ہی رکھا جائے تو وہ بھی کمزور ہو جاتا ہے۔مگر بعض عورتوں کو دیکھا گیا ہے وہ کئی کئی سال تک ناواجب محبت کے جوش میں بچے کو دودھ پلاتی جاتی ہیں اور جب پوچھا جائے کہ کیوں پلاتی ہو تو وہ کہہ دیتی ہیں کیا کریں یہ چھوڑتا ہی نہیں۔اگر چھڑائیں تو رو پڑتا ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خود بھی کمزور ہو جاتی ہیں اور بچہ بھی کمزور ہو جاتا ہے۔تو فرماتا ہے باقی رب کامل نہیں۔کبھی کسی چیز کی ضرورت کا موقع ہو گا تو وہ مہیا نہیں کریں گے۔کبھی موقع نہیں ہو گا تو مہیا کر دیں گے مگر خدا تعالیٰ ایسا نہیں اس کی ربوبیت ہر قسم کے نقائص سے منزّہ اور پاک ہے۔قرآن مجید کے آخری زمانے میں نازل کئے جانے کی وجہ میں نے تمہید میں یہ بتایا تھا کہ پہلی سورۃ کی آیت اِنَّہٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ سے یہ اعتراض پیدا ہوتا تھا کہ خدا تعالیٰ نے شروع میں ہی کیوں قولِ فصل نازل نہیں کر دیا اس کا جواب اس آیت میں دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ خدا تعالیٰ ربّ ہے اس لئے وہ ضرورت اور تدریج کو ضرور مدنظر رکھتا ہے۔جب ایک ماں جو ناقص طور پر صفتِ ربوبیت کو ظاہر کرنے والی ہے شروع میں ہی اپنے بچے کو روٹی نہیں کھلا دیتی اور صرف دودھ پلاتی ہے پھر ہم غیر مناسب غذا کس طرح دے سکتے تھے۔لیکن