تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 25
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۰۰۱ (میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے (شروع کرتا ہوں) سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَىۙ۰۰۲ (اے خاتم النبین) اپنے بزرگ (وبرتر) رب کے نام کا بے عیب ہونا بیان کر۔حلّ لُغات۔سَبِّحْ۔سَبِّحْ امر کا صیغہ ہے اور سَبَّحَ کے معنے ہوتے ہیں اس نے اسے نقص سے پاک قرار دیا (اقرب) پس سَبِّحْ کے معنے ہوئے نقص سے پاک قرار دے۔رَبٌّ کے معنے ہوتے ہیں وہ ذات جو تدریجی طور پر ترقی دیتے ہوئے کمال تک پہنچاتی ہے۔گویا پیدا کرنا اور پھر تدریجی طور پر ترقی دیتے ہوئے کمال تک پہنچانا یہ سب کچھ ربّ کے مفہوم میں شامل ہے۔تفسیر۔سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى میں اعلیٰ لانے کی وجہ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلٰىکے معنے ہیں تو تسبیح کر اپنے رب کے نام کی جو اعلیٰ ہے۔یا اپنے رب کے اعلیٰ نام کی تسبیح کر۔یہاں اعلیٰ صفت رب بھی ہو سکتا ہے اور صفت اسم بھی۔یعنی یہ بھی معنے ہو سکتے ہیں کہ اپنے رب کے اسم کی جو اعلیٰ ہے تسبیح بیان کر اور یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ اپنے اعلیٰ رب کے نام کی تسبیح بیان کر۔رب کی صفت قرار دینے کی صورت میں اس کے یہ معنے ہوں گے کہ تیرا رب جو اعلیٰ ہے یعنی تیرا رب جس کی ربوبیت سب سے بلنداور ارفع شان رکھتی ہے اس کی تسبیح بیان کر۔اور اسم کی صفت ہونے کی صورت میں آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ تو اپنے رب کے سب سے بلند نام کی تسبیح کر اور مطلب یہ ہو گا کہ تو اپنے رب کا نام دنیا میں بلند کر۔بات یہ ہے کہ ربوبیت کے لحاظ سے کئی لوگ خدا تعالیٰ کے شریک ہوتے ہیں جیسے ماں باپ ہیں کہ وہ بھی ایک قسم کے رب ہوتے ہیں کیونکہ بچوں کی ربوبیت کرتے ہیں۔اسی لئے قرآن کریم میں رب کا لفظ غیر اللہ کی نسبت بھی استعمال کیا گیا ہے۔اور اس طرح تسلیم کیا گیا ہے کہ اور لوگوں کو بھی نام کے لحاظ سے خدا تعالیٰ کی اس صفت میں اشتراک حاصل ہے۔چنانچہ ماں باپ ایک قسم کے رب ہوتے ہیں کیونکہ وہ بچوں کی ربوبیت کرتے ہیں۔استاد بھی ایک قسم کا رب ہوتا ہے۔مذہبی پیشوا بھی ایک قسم کا رب ہوتا ہے۔اسی طرح محسن انسان بھی ایک