تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 291
اللہ تعالیٰ نے بھی مخفی رنگ میں ان کے منصوبوں کا ذکر کر دیا۔اگر ان باتوں کو ظاہر کر دیا جاتا تو سمجھا جاتا کہ مسلمانوں نے ابتدا کی ہے اور انہوں نے خود کفار کو برانگیختہ کیا ہے پس چونکہ اللہ تعالیٰ ابھی کفار کے منصوبوں کو کھلے طور پر ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔اس لئے اس نے کہہ دیا لَا نہیں نہیں۔یعنی میں بتاتا تو نہیں مگر تمہارے دل میں جو کچھ ہے میں اس کی نفی کرتا ہوں اور تمہیں بتاتا ہوں کہ ویسا نہیں ہو گا۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اشاروں اشاروں میں وہ بات بھی بیان کر دی۔مگر ایسی زبان میں کہ جسے ہر شخص نہیں سمجھ سکتا تااشتعال بھی پیدا نہ ہو اور تابعد میں کوئی شخص یہ بھی نہ کہہ دے کہ قرآن کریم نے یوں ہی کہہ دیا تھا کہ ہم سمجھ گئے ہیں۔کیونکہ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان ایک بات کو نہیں سمجھتا مگر کہہ دیتا ہے کہ میں سمجھ گیا ہوں۔مگر واقعہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سمجھا نہیں ہوتا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ساتھ ہی تشریح کر دی۔اور بتا دیا کہ ہم کیا سمجھے ہیں۔لیکن ایسی عبارت میں اس کو بیان کیا کہ بات بھی ہو جائے اور وہ یہ بھی نہ کہہ سکیں کہ قرآن کریم نے ان کو اشتعال دلایا ہے یا انگیخت کی ہے اور پہلے ہی کہنا شروع کر دیا ہے کہ کفار مسلمانوں کے متعلق بدا رادے رکھتے ہیں۔اس بات کا ثبوت کہ کفار کے ارادوں کا ہمیں پتہ لگ گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آیت کے اگلے حصہ میں دیا ہے جس کی تشریح اپنے موقعہ پر آئے گی۔لَا اُقْسِمُ قرآن کریم میں آٹھ جگہ استعمال ہوا ہے۔(۱،۲) سورۂ قیامۃ میں دو جگہ (۳)بلد (۴)واقعہ (۵)حاقہ (۶)معارج (۷)تکویر (۸)انشقاق میں اور یہ سب کی سب مکی سورتیں ہیں۔قرآن کریم میں جہاں جہاں اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو بطور شہادت پیش کیا ہے۔وہاں عمومًا واؤ سے قسم کھائی ہے۔اور جہاں لَا استعمال کیا ہے۔وہاں اُقْسِمُ کا لفظ ظاہر کیا ہے۔وَالسَّمَآءِ ذَاتِ الْبُرُوْجِ۔وَالسَّمَآءِ وَالطَّارِقِ وغیرہ میں واؤ کا لفظ استعمال کیا ہے۔اُقْسِمُ کا لفظ استعمال نہیں کیا۔لیکن جہاں لَا کے استعمال کے بعد غیر اللہ کی قسم کھائی گئی ہے وہاں لَا کے بعد اُقْسِمُ کا لفظ آیا ہے واؤ سے قسم نہیں کھائی۔جیسا کہ اوپر کی سورتوں میں اس کی مثالیں ملتی ہیں۔صرف ایک جگہ ہے جہاں لَا آیا ہے مگر اُقْسِمُ کا لفظ ظاہر نہیں کیا گیا۔بلکہ واؤ سے ہی قسم کھائی ہے۔اور وہ آیت یہ ہے فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَ يُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا (النساء:۶۶) اس جگہ لَاوَرَبِّكَ فرمایا ہے اُقْسِمُ نہیں فرمایا۔لیکن اس آیت کا فرق دوسری اس قسم کی آیتوں سے یہ ہے کہ ان میں قسم غیر اللہ کی کھائی گئی تھی اور اس میں اللہ تعالیٰ کی قسم کھائی گئی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُقْسِمُ زور دینے کے لئے اور لَا کے معنوں کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔اسی وجہ سے جب خدا تعالیٰ کا نام لیا گیا۔جیسا کہ فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ میں ا