تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 290
کی گئی ہے۔اس لئے وہ کہتے ہیں کہ یہاں قسم کی نفی اس لئے کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم جو بات کہتے ہیں وہ اتنی صاف اور واضح ہے کہ اس کے لئے کسی قسم کی ضرورت نہیں۔وَالثَّانِیْ اَنَّ لَا رَدٌّ لِکَلَامٍ مُقَدَّرٍ لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ لَا ایک کلام مقدر کا رد ہے (فتح القدیر سورۃ البلد زیر آیت لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِ )۔یعنی کوئی اعتراض ہے جس کا لَا کے ذریعہ رد کیا گیا ہے۔یہ مقدر کلام دو طرح نکلتا ہے۔ایک آیت کے مفہوم سے اور ایک پہلی سورۃ کے مضمون سے یعنی یا تو یہ مقدر کلام آیت کے مفہوم سے نکلے گا۔اور یا پھر مقدر کلام وہ ہو گا جس کا پہلے ذکر آ چکا ہے۔چنانچہ اس سورۃ میں انہوں نے مقدر کلام پہلی سورۃ کے مضامین سے اخذ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس لَا کا مفہوم یہ ہے کہ پہلی سورۃ میں جو باتیں تمہاری طرف سے پیش کی گئی ہیں وہ بالکل غلط ہیں اصل بات اور ہے۔اور یا ہماری طرف سے بیان کردہ پہلی باتوں کے خلاف جو لوگ اعتراضات کر رہے ہیں وہ غلط ہیں اور ہم ان کی تردید کرتے ہیں بہرحال انہوں نے لَا کو ایک کلام مقدر کا رد قرار دیا ہے۔اور کلام مقدر انہوں نے اس جگہ اَنْتَ مُفْتَرٍ نکالا ہے۔یعنی ان لوگوں کا قول یہ ہے کہ وہ کفار جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو کہا کرتے تھے کہ تو مفتری ہے۔ان کا ردّ اس جگہ کیا گیا ہے۔اور اصل آیت یوں ہے لَا اَنْتَ لَیْسَ بِـمُفْتَـرٍ نہیں نہیں یہ بات بالکل غلط ہے کہ تو مفتری ہے۔تو مفتری نہیں بلکہ ہمارا سچا رسول ہے۔اور ہم اس بات کی شہادت کے طور پر اس مکہ شہر کو پیش کرتے ہیں۔میرے نزدیک لَا۔اَنْتَ مُفْتَرٍ کے جواب میں نہیں بلکہ اسی مضمون کے جواب میں ہے جو پہلی سورتوں کے جواب میں بیان کیا گیا ہے۔یعنی مخالفین نے اپنے ذہن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم اور آپ کی جماعت کی تباہی کے منصوبے سوچنے شروع کر دیئے تھے۔اور گو ابھی تک انہوں نے ان منصوبوں کو ظاہر نہیں کیا تھا۔مگر ان کے اذہان میں یہ بات بڑھتی جا رہی تھی۔کہ اب اسلام کو کچلنے اور اس کی ترقی کو روکنے کی کوشش کرنی چاہیے۔اور چونکہ انہوں نے مخفی منصوبے کئے تھے میرے نزدیک ان کے ان مخفی خیالات کو قرآن کریم نے بھی ایک اخفا کے رنگ میں پیش کیا ہے۔اور لَا کہہ کر ایسے رنگ میں ان کو ظاہر کیا ہے۔کہ کفار کو اشاروں اشاروں میں بتا دیا جائے کہ ہمیں تمہارے ان منصوبوں کا علم ہے مگر تم یاد رکھو کہ اپنے ان منصوبوں میں تم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔یہ طریق اللہ تعالیٰ نے سورۃ الغاشیہ سے ہی اختیار کیا ہے۔چنانچہ پہلے یہ خبر دی کہ کچھ لوگ عَامِلَۃٌ نَّاصِبَۃٌ بننے والے ہیں۔پھر سورۃ الفجر میں خبر دی کہ مسلمانوں پر دس تاریک راتیں آنے والی ہیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ اس جگہ ابھی کفار کے ارادوں کو ظاہر نہیں کرتا۔صرف اشاروں اشاروں میں ان کا ذکر کرتا ہے۔ظاہر اس لئے نہیں کرتا کہ دشمنوں نے بھی ابھی کھلم کھلا مخالفت شروع نہیں کی تھی۔صرف مخفی منصوبے اسلام کے خلاف کر رہے تھے۔اس لئے