تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 292 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 292

میں آتا ہے۔تو اس جگہ واؤ کافی سمجھی گئی اور اُقْسِمُ کو ظاہر نہیں کیا۔لیکن جہاں خدا تعالیٰ کا نام نہیں لایا گیا۔وہاں اُقْسِمُ کا لفظ ضرور لایا گیا ہے اس لئے کہ خدا تعالیٰ کے نام کے متعلق تو ہر شخص جانتا ہے۔کہ اس کی قسم کھائی جاتی ہے۔لیکن غیر اللہ کے متعلق نہیں جانتا کہ اس کی قسم کھائی جاتی ہے۔پس لَا سے چونکہ نفی ہوتی تھی اُقْسِمُ کو ظاہر کر دیا گیا۔تا قسم کی نفی نہ سمجھ لی جائے۔وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ۰۰۳ اس حال میں کہ تو اس شہر میں (ایک فاتح کی صورت میں) اترنے والا ہے۔حلّ لُغات۔حِلٌّ۔حِلٌّ کے معنی ایک تو اس علاقہ کے ہیں مَاجَاوَزَا الْـحَرَمَ مِنْ اَرْضِ مَکَّۃَ جو حرم سے باہر کا ہے۔مکہ مکرمہ حرم کہلاتا ہے اور وہاں کسی شکار کا مارنا یا درخت کا کاٹنا بالکل منع ہے۔لیکن چند میلوں کے بعد یہ چیزیں جائز ہو جاتی ہیں۔یا مثلاً لڑائی حرم میں منع ہے لیکن حرم سے باہر منع نہیں۔غرض جو علاقہ مکہ کے اردگرد کی مقررہ حدود کے اندر کا ہے وہ حرم کہلاتا ہے اور اس میں جنگ، شکار اور درختوں کا کاٹنا منع ہے۔لیکن حرم سے باہر یہ چیزیں جائز ہیں۔اسی وجہ سے بیرونی علاقہ کو حِلٌّ کہتے ہیں۔اور اندرونی علاقہ کو حرم۔اسی طرح اس کے ایک معنی حلال کے بھی ہیں۔یعنی یہ حرام کی ضد بھی ہوتی ہے۔وَالْـحِلُّ: اَلْغَرَضُ الَّذِیْ یُرْمٰی اِلَیْہِ۔اور حِلّ اس ہدف کو بھی کہتے ہیں جس کی طرف تیر پھینکے جاتے ہیں وَالْاِسْـمُ مِنْ تَـحْلِیْلِ الیَمِیْنِ اور حِلّ تحلیل یمین کا اسم بھی ہے۔یعنی قسم کو کسی ذریعہ سے کفارہ دے کر توڑ دینا۔چنانچہ حدیثوں میں آتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم نے ایک عورت سے جس نے یہ قسم کھائی تھی کہ میں اپنے غلام کو آزاد نہیں کروں گی۔فرمایا حِلًّا اُمَّ فُلَانٍ اَیْ تَـحَلَّلِیْ فِیْ یَـمِیْنِکِ۔اے عورت تو کفارہ دے دے اور قسم پر قائم نہ رہ۔کیونکہ یہ بری قسم ہے۔وَالْـحِلُّ: اَلنَّازِلُ بِالْمَکَانِ اور کسی مکان میں عارضی طور پر اترنے والے کو بھی حِلٌّکہتے ہیں قَالَ الْـحَرِیْرِیُّ مَادُمْتُ حِلًّا بِـھٰذَا الْبَلَدِ اَیْ نَازِلًا اور حریری کہتے ہیں کہ مَادُمْتُ حِلًّا کے معنی یہ ہیں کہ جب تک میں اس شہر میں ہوں (اقرب) حِلٌّ کے پانچ معنے گویا حِلٌّ کے پانچ معنی ہوئے اوّل وہ علاقہ جو حرم سے باہر کا ہے۔دوم حلال۔سوم ہدف۔چہارم قسم کو کفارہ کے ذریعہ توڑنا۔پنجم کسی جگہ پر اترنا۔