تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 289

پنجابی زبان میں بھی بعض دفعہ ایسے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔جن کا مفہوم ان کے ظاہر کے خلاف ہوتا ہے۔مثلاً بعض دفعہ باتیں کرتے ہوئے ایک شخص دوسرے سے کہہ دیتا ہے ’’چھڈ وی‘‘ یعنی مجھے چھوڑو بھی۔حالانکہ اس نے اسے پکڑا نہیں ہوتا۔نہ اس کا خود یہ مطلب ہوتا ہے کہ تو نے مجھے کیوں پکڑ رکھا ہے۔مجھے چھوڑو تاکہ میں جا سکوں بلکہ یہ ایک طریق ہے جو شدت سے دوسرے کو کسی بات سے روکنے کے لئے اختیار کیا جاتا ہے۔اسی طرح نحوی کہتے ہیں کہ جب کسی بات کی طرف دوسروں کی توجہ کو مبذول کرنا ہو اور منشا یہ ہو کہ تاکید کی جائے۔تو الٹ بات کہہ دی جاتی ہے۔حالانکہ مفہوم اور ہوتا ہے جیسے ماں بعض دفعہ اپنے بچہ کو شریر کہہ دیتی ہے۔مگر اس کا منشا یہ نہیں ہوتا کہ کسی ناراضگی کا اظہار کرے۔بلکہ وہ اپنی محبت کے اظہار کے لئے یہ لفظ استعمال کرتی ہے۔اور وہ جانتی ہے کہ جتنی محبت ’’شریر‘‘ کہہ کر ظاہر ہو سکتی ہے۔اتنی محبت کسی پیار کے لفظ سے ظاہر نہیں ہو سکتی۔گو وہ اسے کہتی ’’شریر‘‘ ہے مگر اس کے چہرے کی بناوٹ اس کے ہونٹوں کی حرکت اور اس کی آنکھوں کی چمک ظاہر کر رہی ہوتی ہے کہ وہ محبت میں گھلی جا رہی ہے۔لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِ میں لفظ لَا کے لانے کی فلاسفی غرض لَا کے متعلق نحوی کہتے ہیں کہ یہ زائدہ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ یہ اصل معنوں میں استعمال نہیں ہوا۔بلکہ محض مضمون کی تاکید کے لئے استعمال ہوا ہے۔بلکہ اور معنوں کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا ’’ نہیں نہیں‘‘ یہ الفاظ ایسے ہیں کہ انسان ان کو سنتے ہی حیران ہو جاتا ہے۔اور فوراً اس کی توجہ پھر جاتی ہے کہ یہ ’’ نہیں نہیں‘‘ کیوں کہا جا رہا ہے۔اگر صرف اُقْسِمُ سے آیت کا آغاز کیا جاتا ہے اور لَا کا استعمال نہ کیا جاتا۔تو اُقْسِمُ کے بعد لوگوں کی توجہ پیدا ہوتی۔اور وہ سوچتے کہ ان کے سامنے کون سی شہادت رکھی جا رہی ہے۔مگر اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی فرما دیا کہ لَا ’’نہیں نہیں‘‘ اور باتوں کو چھوڑو اور جو کچھ ہم کہہ رہے ہیںاسے سنو۔اس ’’ نہیں نہیں‘‘ کو سنتے ہی ہر شخص فوراً متوجہ ہو جاتا ہے۔اور وہ چاہتا ہے کہ میں معلوم کروں کہ کیا بات ہے اور نہیں نہیں کس بات پر کہا جا رہا ہے۔گویا لوگوں کی توجہ کو جذب کرنے اور ان پر اصل حقیقت کو ظاہر کرنے کے لئے اُقْسِمُ کی بجائے لَا سے اس سورۃ کا آغاز کیا۔تاکہ اُقْسِمُ کے بعد توجہ پیدا نہ ہو۔بلکہ اس سے پہلے لَا کے سنتے ہی ہر شخص متوجہ ہو جائے۔بعض نحویوں نے کہا ہے کہ یہ لَا زائدہ نہیں بلکہ معنی رکھتا ہے۔اور پھر وہ اس کی دو قسمیں کرتے ہیں اَحَدُھُمَا ھِیَ نَفْیٌ لِلْقَسْمِ بِـھَا کچھ لوگ تو کہتے ہیںکہ یہ نفئ قسم کے معنوںمیں ہے۔یعنی لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِ کے معنے یہ ہیں کہ ہم اس شہر کی قسم نہیں کھاتے (فتح القدیر سورۃ البلد زیر آیت لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِ )۔مگر چونکہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ قسم کی نفی یہاں کیوں