تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 288 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 288

یہ قاعدہ ایک فلسفیانہ اصل کے ماتحت بنایا گیا ہے انسانی فطرت میں یہ داخل ہے کہ جب عام رسم ورواج کے خلاف کوئی بات کہی جائے تو انسان کی توجہ ادھر پھر جاتی ہے۔مثلاً بچے کو بعض دفعہ باتوں باتوں میں انسان کہہ دیتا ہے۔’’او شریر‘‘ اب ہر شخص جانتا ہے کہ اس وقت اسے گالی دینا مدنظر نہیں ہوتا۔بلکہ صرف اس کی چالاکی کا اظہار مدنظر ہوتا ہے۔مگر اس کے لئے شریر کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔جس کے معنے صرف اتنے ہوتے ہیں کہ تیرے افعال میں ایک حدّت اور تیزی پائی جاتی ہے۔یہ ضروری نہیں ہوتا کہ وہ حدّت اور تیزی اعلیٰ اخلاق یا صحیح مذاق کے خلاف ہو۔اسی طرح ماں کے سامنے بعض دفعہ بچہ ایسے انداز سے آتا ہے کہ وہ سمجھتی ہے اب یہ ضرور مجھ سے کوئی چیز مانگے گا وہ اسے دیکھتی ہے اور مسکراتے ہوئے کہتی ہے ’’شریر‘‘ اب اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ تو بہت برا ہے۔بلکہ اس کے معنی صرف اتنے ہوتے ہیں کہ میں جانتی ہوں۔تم میری محبت کو کھینچ رہے ہو۔اور چاہتے ہو کہ میرے جذبات میں ہیجان پیدا کر کے چیز حاصل کر سکو۔اور یہ بات بُری نہیں بلکہ فطرت کے عین مطابق ہے۔انسان روزانہ دعائیں مانگتا ہے۔اور عجیب عجیب رنگ میں خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کے رحم کو حرکت میں لانے کی کوشش کرتا ہے۔کبھی کہتا ہے خدایا میں نے فلاں کام محض تیری رضا کے لئے کیا تھا۔اگر وہ کام تیری نگا ہ میں پسندیدہ ہے اور تو جانتا ہے کہ میری نیت اور ارادہ اس کام کو کرنے سے محض یہ تھا کہ تیری رضا اور خوشنودی مجھے حاصل ہو جائے۔کوئی اور غرض میرے سامنے نہیں تھی۔تو اے میرے رب اس نیکی کے عوض میری فلاں حاجت کو پورا فرما دے۔کبھی خیال کرتا ہے کہ اگر میں اپنی مسکنت اور غربت خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کروں گا تو اس کا رحم جوش میں آ جائے گا۔اور اس کا فضل میری مشکل کشائی کا موجب بن جائے گا۔چنانچہ اس خیال کے آنے پر وہ اپنے عجز اور اپنی بے کسی کو خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کرتا ہے۔اور کہتا ہے خدایا میرا تو تیرے سوا کوئی والی اور مدد گار نہیں۔میں اکیلا ہوں۔میں بے کس اور بے بس ہوں۔میری تیرے سوا اور کسی پر نظر نہیں۔اگر تو مجھ پر رحم نہیں کرے گا تو اور کون کرے گا۔تو میری مدد فرما اور میری مشکلات کو دور کر۔کیونکہ تیرے سوا میرا کوئی ناصر اور مدد گار نہیں۔اب یہ چالاکی نہیں ہے۔نہ اسے شرارت اور بددیانتی کہتے ہیں بلکہ ہر شخص جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کو کھینچنے اور اس کے رحم کو جوش میں لانے کے لئے ایسے الفاظ کا استعمال اثر رکھتا ہے۔چنانچہ ایک ماں جب اپنے بچہ کو شریر کہتی ہے اس وقت اسے غضب نہیں آتا بلکہ مزہ آتا ہے۔اور اس کا جی چاہتا ہے کہ وہ اسے چمٹا لے کہ یہ کتنا ہوشیار ہے اور اس نے اپنے مقصد کو کس عمدگی کے ساتھ پیش کیا ہے۔تو فطرت انسانی میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ کبھی کوئی بُری بات بظاہر متضاد کہی جاتی ہے اور اس سے مراد دوسرے کی توجہ کو کھینچنا ہوتا ہے۔