تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 263

ہیں فرماتا ہے فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَ نَعَّمَهٗ١ۙ۬ فَيَقُوْلُ رَبِّيْۤ اَكْرَمَنِ کہ جب انسان پر اس کی حقیقت کے اظہار کے لئے اللہ تعالیٰ اکرام وانعام کی بارش نازل فرماتا ہے تو وہ اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہوئے کہتا ہے کہ خدا نے میرا اکرام کیا یعنی میں ایسا ہی تھا کہ خدا تعالیٰ مجھ سے یہ سلوک کرتا۔وہ یہ نہیں سمجھتا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ نعمتیں مجھے اس لئے دی ہیں تا ان کے ذریعہ میرا گند یا میری خوبی دنیا پر ظاہر کرے یا مجھے اس لئے دولت دی ہے تا کہ لوگوں کو دکھائے کہ میرا ایمان اتنا مضبوط ہے یا نہیں کہ باوجود دولت ملنے کے میں تکبّر میں مبتلا نہیں ہوتا اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق کو پوری دیانتداری کے ساتھ ادا کرتا رہتا ہوں بلکہ وہ سمجھتا ہے خدا مجھ پر عاشق ہو گیا ہے کہ اتنے بڑے انعام مجھے عطا کرتا جا رہا ہے گویا وہ خدا تعالیٰ کے اکرام اور اس کے انعام سے ایک غلط نتیجہ نکال لیتا ہے۔وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهٗ١ۙ۬ فَيَقُوْلُ رَبِّيْۤ اَهَانَنِ۔اور اگر خدا تعالیٰ کسی وقت رزق کی تنگی سے اس کی آزمائش کرتا ہے تو وہ یہ نہیں سمجھتا کہ خدا تعالیٰ اس ابتلا کے ذریعہ میرے اندرونہ کو ظاہر کرنا چاہتا ہے وہ دنیا کو یا خود مجھے یہ دکھانا چاہتا ہے کہ مشکلات کو کس حد تک برداشت کرنے کی میرے اندر قوت پائی جاتی ہے اور قومی ضرورتوں کے وقت میں اچھا سپاہی ثابت ہو سکتا ہوں یا نہیں۔وہ ان حکمتوں میں سے کسی حکمت کو نہیں سمجھتا بلکہ یہ شور مچانا شروع کر دیتا ہے کہ خدا نے مجھے بے عزت کر دیا۔گویا دونوں موقعوں پر وہ ایک غلط نقطۂ نگاہ اختیار کر لیتا ہے اس لئے اس کی دونوں باتیں غلط ہوتی ہیں ورنہ حقیقت کے لحاظ سے یہ دونوں باتیں صحیح ہیں کہ کبھی اللہ تعالیٰ انسان کی اس رنگ میں آزمائش کرتا ہے کہ اس پر انعام و اکرام نازل کرتا ہے اور کبھی اس رنگ میں آزمائش کرتا ہے کہ اسے مشکلات اور مصائب اور تنگئ رزق کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایک سچا مومن دونوں حالتوں میں ثابت قدم رہتا ہے مگر کافر کی یہ حالت ہوتی ہے کہ انعام و اکرام کے وقت وہ کہتا ہے رَبِّيْۤ اَكْرَمَنِ خدا نے میرا اکرام کیا حالانکہ خدا تعالیٰ اس ذریعہ سے اس کا امتحان لے رہا ہوتا ہے اور تنگئ رزق کے وقت وہ کہتا ہے رَبِّيْۤ اَهَانَنِ میرے رب نے مجھے ذلیل کر دیا حالانکہ اس ذریعہ سے وہ اس کے اندرونہ کو بے نقاب کر رہا ہوتا ہے۔گویا یہ دونوں ابتلائی مقام ہوتے ہیں جزا و سزا کے مقام نہیں ہوتے۔جب اس پر انعامات کے رنگ میں بارش نازل ہو رہی ہوتی ہے اس وقت بھی وہ ابتلا کے نیچے ہوتا ہے اور جب اس پر تنگئ رزق کا دَور ہوتا ہے اس وقت بھی وہ ایک ابتلا کے نیچے ہوتا ہے۔یہ نہیں ہوتا کہ انعامات اسے کسی اعلیٰ درجہ کے کام کی جزا کے طور پر دیئے جا رہے ہوں یا تنگئ رزق کسی جرم کی سزا کے طور پر اس پر حاوی ہو دونوں حالتیں ابتلائی ہوتی ہیں اور دونوں حالتوں میں اس کی