تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 262 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 262

خدا تعالیٰ نے اس کا گوشت پوست ایسا ہی بنایا تھا کہ اتنی اونچی جگہ سے چھلانگ لگانے کے نتیجہ میں وہ مر جاتا مگر یہ نہیں کہا جائے گا کہ مینار سے اسے خدا تعالیٰ نے گرایا ہے یا اس کا گوشت پوست اس لئے بنایا تھا کہ مینار سے چھلانگ لگائے اس کا گوشت پوست کسی اور غرض کے لئے بنایا گیا تھا مگر بہرحال خدا تعالیٰ نے ایسا ہی گوشت پوست اسے بخشا تھا جو بلند جگہ سے گرنے کے نتیجہ میں کچلا جائے اور انسان ہلاک ہو جائے مگر اس کے باوجود خدا تعالیٰ پر یہ الزام نہیں آئے گا کہ اس نے ہلاک کیا۔غرض جہاں تک نتائج کا سوال ہے اچھے اور برے دونوں خدا تعالیٰ کی طرف منسوب ہوں گے لیکن جہاں تک شر کے الزام کا سوال ہے وہ بندے پر عائد ہو گا لیکن فعلِ بد اور فعلِ خیر دونوں بندے کی طرف منسوب ہوں گے اچھا فعل بھی اسی کی طرف منسوب ہو گا اوربرا فعل بھی اسی کی طرف منسوب ہو گا۔اور جہاں تک نتائج کا سوال ہے شر بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور خیر بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔جب ہم نتائج کے لحاظ سے کوئی بات کریں گے تو کہیں گے خدا تعالیٰ کی طرف سے خیر بھی آتی ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے شر بھی آتی ہے لیکن جب یہ کہا جائے گا کہ برے اور اچھے کام کون کرتا ہے تو ہم کہیں گے چوری بھی بندہ کرتا ہے اور نماز بھی بندہ پڑھتا ہے اور جہاں تک سامانوں کے بالقوہ یا بالفعل ظہور کا سوال ہے یعنی یہ سوال کہ انسان کے اندر قوتیں کس مقصد کے لئے رکھی گئی ہیں؟ اس وقت جب بالقوہ طاقتوں کا سوال ہو گا تو ہم کہیں گے کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور جب ان قوتوں کے بالفعل ظہور کا سوال ہو تو ہم کہیں گے کہ یہ بندے کی طرف سے ہیں اس لئے کہ جہاں تک طاقتوں اور قوتوں کا سوال ہے وہ خیر ہی خیر ہیں اس لئے ہم کہیں گے کہ وہ سب خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں لیکن جہاں تک ان قوتوں کے استعمال کا سوال ہے چونکہ بندے برے کام بھی کر لیتے ہیں اور اچھے بھی۔اس لئے اگر ا نسان ان قوتوں کا برا استعمال کرے گا تو شر بندے کی طرف منسوب ہو گا اور اگر وہ ان قوتوں کا نیک استعمال کرے گا تو چونکہ خدا تعالیٰ نے ہی ان قوتوں کو نیکی کے لئے پیدا کیا ہے اس لئے وہ خیر خدا تعالیٰ کی طرف منسوب ہو گا۔پس نتائج کے اعتبار سے خیر اور شر دونوں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔عمل کے لحاظ سے خیر اور شر دونوں بندے کی طرف سے ہیں بالقوہ طاقتوں کے لحاظ سے خیر خدا تعالیٰ کی طرف منسوب ہو گا اور شر نہیں کیونکہ اس نے کوئی چیز برے استعمال کے لئے پیدا ہی نہیں کی اور بالفعل ظہور کے لحاظ سے خیر خدا تعالیٰ کی طرف اور شر بندے کی طرف منسوب ہو گا کیونکہ خدا تعالیٰ نے ان قوتوں کو کسی شر کے لئے پیدا نہیں کیا تھا۔غرض دونوں باتیں خدا تعالیٰ کرتا ہے اور دونوں باتیں بندہ کرتا ہے مگر اس کے باوجود شر بندے کی طرف منسوب ہوتا ہے اور خیر خدا تعالیٰ کی طرف منسوب ہوتا ہے۔یہاں انکار انہی معنوں میں کیا گیا ہے جو برے