تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 264 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 264

حقیقت کو خود اس کے نفس پر اور دوسرے لوگوں پر ظاہر کرنا مقصود ہوتا ہے۔اس حقیقت کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات اور اس کی طرف سے آنے والی تکالیف کے سلسلہ میں دو قسم کے مقام ہوتے ہیں ایک مقام ابتلائی ہوتا ہے اور ایک مقامِ جزا وسزا ہوتا ہے یعنی کبھی ابتلا کے طورپر انعامات نازل ہوتے ہیں اور کبھی جزائے خیر کے طور پر انعامات نازل ہوتے ہیں۔اسی طرح کبھی ابتلا کے طور پر دکھ وارد ہوتے ہیں اور کبھی سزا کے طور پر مختلف تکالیف کے دَور آتے ہیں۔اس جگہ صرف ابتلائی مقامات کا ہی ذکر کیا جا رہا ہے جزا و سزا والے مقام کا ذکر نہیں کیا گیا۔اسی لئے اللہ تعالیٰ انسان کو مجرم قرار دیتا ہے اور فرماتا ہے ہم اس کا امتحان لینے کے لئے اسے انعامات دیتے ہیں تو وہ کہتا ہے میرے رب نے میرا اکرام کیا۔گویا ان انعامات پر اس کا حق تھا اور خدا تعالیٰ کو یہی چاہیے تھا کہ اس کا اکرام کرتا۔وہ یہ نہیں سمجھتا کہ میں نے تو کوئی نیک کام کیا نہیں اور یہ کہ یہ نعمتیں تو اس کے امتحان کا ایک ذریعہ ہیں۔اس کے مقابلہ میں جب تکالیف کے ذریعہ اس کا امتحان لیا جاتا ہے تو وہ کہہ دیتا ہے رَبِّيْۤ اَهَانَنِ میرے رب نے میری ہتک کر دی۔میرے مقام کو اس نے نظر انداز کر کے اس نے مجھے بے عزت کردیا۔اگر وہ یہ کہتا کہ میرے جرموں کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی طرف سے مجھے یہ سزا ملی ہے یا بجائے اَھَانَنِ کہنے کے وہ کہتا ہے کہ عَذَّبَنِیْ میرے رب نے میرے گناہوں کی پاداش میں مجھے عذاب میں مبتلا کر دیا تو خواہ ابتلائی مقام ہونے کی وجہ سے اس کی یہ بات بھی غلط ہی ہوتی مگر پھر بھی وہ مجرم نہ بنتا مگر وہ تو یہ کہتا ہے رَبِّيْۤ اَهَانَنِ میں اس بات کا مستحق تھا کہ مجھے عزت دی جاتی مگر میرے رب نے مجھے رسوا کر دیا۔اصل بات یہ ہے کہ ابتلائی صورتیں اور رنگ کی ہوتی ہیں اور جزا و سزا کی صورتیں اور رنگ کی ہوتی ہیں مثلاً ہر نبی کو خدا تعالیٰ عزت دیتا اور اس کے مقاصد میں اسے کامیابی عطا کرتا ہے اور کئی ایسے انبیاء ہیں جنہیں اس نے علاوہ روحانی حکومت کے جسمانی باد شاہت بھی عطا کی۔مثلاً حضرت موسٰی، حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمانؑ کے ہاتھ میں بادشاہت آئی مگر یہ بادشاہت ابتلا کے طور پر نہیں تھی بلکہ انعام کے طور پر ان کے کام کو تقویت پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوئی(۱۔النمل:۱۷تا۲۰ ۲۔صٓ:۱۸تا۲۱ اور ۳۱تا۳۶ ۳۔استثناء باب ۲ آیت ۱۱،۱۲ ۴۔ا۔سلاطین باب ۱۱، ۱۲)۔یا مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بادشاہت نہ ملتی تو آپ قرآنی شریعت کو عملی رنگ میں کس طرح رائج کرتے پس آپ کو اور بعض دوسرے انبیاء کو جو حکومت ملی وہ ایک ہتھیار کے طور پر تھی اور ضمنی چیز تھی ابتلا نہیں تھا۔ابتلا ہمیشہ اس لئے آتا ہے تاکہ انسان کے اخلاق ظاہر کئے جائیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے