تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 211

یہ امر ظاہر ہے کہ قیامت تک بشیر و نذیر ہونے کے یہ معنے تو نہیں ہو سکتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر زمانہ میں اپنے جسد ِعنصری کے ساتھ واپس آئیں گے اور تبشیر وانذار کا کام سرانجام دیں گے بلکہ اس کے معنے یہ تھے کہ آپؐکے اظلال دنیا میں پیدا ہوتے رہیں گے اور جب بھی کوئی خرابی واقع ہو گی آپؐکے اظلال بشیر و نذیر بن کر کھڑے ہو جائیں گے اور اس طرح برابر آپؐکا وجود دنیا میں ظاہر ہوتا رہے گا۔اللہ تعالیٰ یہی جواب اس موقع پر پیش کرتا ہے اور فرماتا ہے قُلْ لَّكُمْ مِّيْعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ۠ عَنْهُ سَاعَةً وَّ لَا تَسْتَقْدِمُوْنَ۠(سبا:۳۰)ہم اس کے لئے ایک دن کی معیاد سورۂ سجدہ میں مقرر کر چکے ہیں۔یعنی ایک ہزار سالہ خرابی کا دَور گذرنے کے بعد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہو گا۔اور آپؐدوبارہ بشیر و نذیر بن کر دنیا میں آ جائیں گے۔پس قُلْ لَّكُمْ مِّيْعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ۠ عَنْهُ سَاعَةً وَّ لَا تَسْتَقْدِمُوْنَ۠ میں انہی دس تاریک راتوں کی طرف اشارہ ہے جو اسلام کے قریبًا تین سو سالہ دَور ترقی کے بعد مسلمانوں پر آئیں جو ایک ہزار سال تک ممتد چلی گئیں اور جن کا ذکر سورۂ سجدہ میں ان الفاظ میں پایا جاتا ہے کہ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَآءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ اِلَيْهِ فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗۤ اَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ۔غرض تیرہ سو سال کے ایک زمانہ کا ذکر قرآن کریم میں موجود ہے جن میں سے دس سو سال کے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ رات کے مشابہ ہوں گے اور ہر رات ایک ایک سو سال کی ہو گی اور اس طرح دس راتیں یکے بعد دیگرے مسلمانوں پر آئیں گی۔اسی طرح قرآن کریم میں آتا ہےفَلَاۤ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِ۔وَ الَّيْلِ وَ مَا وَسَقَ۔وَ الْقَمَرِ اِذَا اتَّسَقَ۔لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ(الانشقاق:۱۷تا۲۰) جس طرح تم کہتے ہو اس طرح نہیں بلکہ میں شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں شفق کو۔پھر میں شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں رات کو اور اس کو جسے وہ اپنے اندر جمع کر لیتی ہے اور پھر میں شہادت کے طور پر پیش کرتا ہوں چاند کو جب وہ تیرھویں رات کا ہو جاتا ہے۔اِتِّسَاق کے معنے ہوتے ہیں تیرھویں رات کا چاند۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِیہ بات نہیں جو تم کہتے ہو۔میں شہادت کے طور پر شفق کو پیش کرتا ہوں جب سورج تو ڈوب جاتا ہے لیکن اس کی سرخی رہ جاتی ہے۔اس میں کفّار کو بتایا کہ اس وقت اسلام کو مغلوب کرنے کی کوششیں بالکل عبث ہیں اسلام غالب آئے گا اور تم اس کے مقابلہ میں خواہ کتنی کوششیں کرو کبھی کامیاب نہیں ہو سکو گے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام ہمیشہ طاقتور رہے گا۔جس طرح سورج ایک وقت مقررہ کے بعد ڈوب جاتا ہے اسی طرح اسلام پر ایک ایسا زمانہ آئے گا جب اس میں تنزل کے آثار پیدا