تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 210
نہیں۔اس سے یہ مراد نہیں ہو سکتی کہ لوگ ایمان نہیں لا رہے کیونکہ یہ تو صاف بات ہے کہ وہ ایمان نہیں لا رہے تھے اس کے ذکر کا کوئی خاص فائدہ نہیں تھا اس کے معنے درحقیقت یہ ہیں کہ ہم نے یہ ایک ایسی بات کہی ہے جس سے لوگ پہلے واقف نہیں تھے۔پہلے لوگ صرف قومی اور وقتی نبیوں کے قائل تھے سوائے عیسائیوں کے ایک فرقہ کے جو ساری دنیا کے لئے اور ہمیشہ کے لئے روحانی بادشاہت کا قائل تھا۔لیکن باقی لوگوں میں سے کوئی بھی اس کا قائل نہیں تھا۔کیونکہ نبی آتے رہے اور ان کی تعلیمیں منسوخ ہوتی رہیں۔پس فرمایا کہ ہم تیرے متعلق ایک ایسا دعویٰ کر رہے ہیں جس سے لوگ واقف نہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ایک نبی کے بعد جب بھی دوسرا نبی آتا ہے وہ پہلے نبی کی نبوت کو منسوخ کر دیتا ہے۔ساری دنیا کی طرف ایک نبی کا ہونا اور پھر ہر زمانہ کے لئے ہونا یہ دو۲ باتیں پہلے کسی نبی میں جمع نہیں ہوئیں۔ہندو وید کو ہمیشہ کے لئے مانتے ہیں۔مگر وہ ساری دنیا کے لئے نہیں مانتے۔شودروں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر وہ ویدوں کو سن لیں تو سیسہ پگھلا کر ان کے کان میں ڈالا جائے۔زرتشتی خاموش ہیں۔مگر اتنی بات بالکل واضح ہے کہ ان کا مذہب ساری دنیا کے لئے نہیں۔یہودی ہیں وہ گو اب کہتے ہیں کہ ان کی شریعت ہمیشہ کے لئے ہے۔مگر یہ خیال آخری زمانہ میں ان میں پیدا ہوا ہے۔پہلے ان کا یہی خیال تھا کہ ایک اور شریعت آنے والی ہے۔جیسا کہ استثنا ۱۸/۱۸ اور ۳۳/۲سے ظاہر ہے۔اس کے بعد حضرت عیسٰی علیہ السلام آئے وہ بھی ساری دنیا کے لئے نہیں تھے۔مگر چونکہ وہ ایک ایسے زمانہ میں آئے ہیں جب وہ وقت بالکل قریب آ رہا تھا جب کہ ساری دنیا کے لئے ایک نبی بھیجا جائے اور حالات میں جلد جلد تغیّر پیدا ہو رہا تھا اس لئے عیسائیوں نے غلطی سے حضرت عیسٰی علیہ السلام کے متعلق یہ سمجھ لیا کہ وہی تمام دنیا کے لئے بھیجے گئے ہیں۔لیکن عیسائی اَکْثَرَ النَّاسِ نہیں ہیں اور خدا تعالیٰ نے یہ کہا ہے کہ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ (سبا:۲۹) یعنی دنیا کا اکثر حصہ ایسا ہے جو اس عقیدے کا قائل ہی نہیں۔وہ یہ مانتا ہی نہیں کہ ساری دنیا کے لئے شریعت ہو اور پھر وہ شریعت ہمیشہ کے لئے ہو۔یہ دونوں فرق چلتے چلے جاتے ہیں اور سوائے عیسائیوں کے دنیا میں جس قدر مذاہب پائے جاتے ہیں ان میں سے اکثر اس کے قائل نہیں۔اور جو لوگ قائل ہیں وہ بہت ہی تھوڑے ہیں۔اس کے بعد فرماتا ہے وَ يَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ(سبا:۳۰)۔یعنی وہ لوگ پوچھتے ہیں کہ جب یہ کہا گیا کہ آنحضرتؐہر زمانہ کے لئے ہیں اور ہر زمانہ کے لئے وہ بشیر اور نذیر ہیں تو اس کے معنے یہ ہیں کہ پھر بھی ایسے زمانے آتے رہیں گے جب دنیا میں خرابی پیدا ہو گی اور آنحضرتؐبحیثیت بشیر اور نذیر کے دنیا میںظاہر ہوں گے۔ہمارا سوال یہ ہے کہ ایسا زمانہ کب آئے گا اور کب بحیثیت بشیر اور نذیر کے آنحضرتؐدنیا میں ظاہر ہوں گے۔