تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 212
ہو جائیں گے۔لیکن ابھی شفق کی سرخی اس میں باقی ہو گی۔بے شک دن کی روشنی نہیں رہے گی مگر رات کی تاریکی بھی اس وقت نہیں ہو گی۔ایک ملی جلی کیفیت ہو گی۔مسلمانوں کا غلبہ بھی ہو گا اور ان میں ضعف اور اضمحلال بھی پیدا ہو چکا ہو گا۔لیکن پھر اس کے بعد ہم رات کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں۔اور ان سب چیزوں کو جنہیں رات اپنے اندر جمع کر لیتی ہے یعنی جو جو مصائب اور مشکلات رات کے اندر پائی جاتی ہیں وہ سب کی سب اس رات میں اکٹھی ہو جائیں گی اور وہ تمام تاریکیوں کو جمع کر کے ایک بھیانک صورت اختیار کر لے گی وَالْقَمَرِ اِذَااتَّسَقَ اس کے بعد ہم ایک چاند کو شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جو تیرھویں رات کا ہو گا۔یہ قرینہ صاف طور پر بتا رہا ہے کہ یہاں رات سے حقیقی رات مراد نہیں بلکہ استعارۃً رات کا ذکر کیا گیا ہے۔کیونکہ ہر شخص جانتا ہے کہ تیرہویں یا چودھویں رات کے چاند انتہائی تاریک رات کے بعد نہیں نکلتے بلکہ تاریک راتوں کے شروع ہونے سے پہلے یہ چاند نکلا کرتے ہیں۔پس اگر لیل سے مراد یہاں اصلی رات ہوتی تو وَالَّیْلِ وَمَاوَسَقَ کے بعد قمر کا کوئی ذکر ہی نہ ہوتا۔کیونکہ مادی دنیا میں اس قسم کی تاریک رات کے بعد کبھی تیرہویں یا چودھویں کا چاند نہیں نکلا کرتا۔یہ قرینہ بتا رہا ہے کہ اس جگہ ظاہری رات کا ذکر نہیں ہو رہا بلکہ ایسی رات کا ذکر کیا جا رہا ہے جس کے انتہائی طور پر تاریک ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے قمر ظاہر ہوا کرتا ہے۔اِتِّسَاق کے معنے جیسا کہ اس سورۃ کی تفسیر میں بتایا جا چکا ہے تیرہویں، چودھویں، پندرہویں اور سولہویں رات کے چاند کے ہوتے ہیں۔پس اس آیت میں یہ خبر دی گئی ہے کہ جس طرح دن غائب ہوتا ہے اسی طرح اسلام کا حال ہو گا۔اس کا تنزل ایک دم نہ ہو گا بلکہ آہستہ آہستہ وہ تنزل کی طرف جائے گا۔یہاں تک کہ اسلام کا سورج لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو جائے گا مگر اس کی شفق باقی رہ جائے گی۔اس کے بعد شفق بھی جاتی رہے گی اور کامل تاریکی مسلمانوں پر چھا جائے گی۔اس کے بعد ایک چاند نکلے گا جو تیرہویں رات میں ظاہر ہو گا اور سولہویں رات تک جائے گا۔اور وہ تیرہویں تاریخ کا چاند اسلام کے تمام مصائب کا خاتمہ کر دے گا۔اور یہ ترقی کا سلسلہ سولہویں صدی تک چلتا چلا جائے گا خدا تعالیٰ نے اس حقیقت کے اظہار کے لئے اِتِّسَاق کا لفظ بھی عجیب رکھا ہے۔لغت میں لکھا ہے اس کے معنے اس چاند کے ہیں جو تیرہویں، چودہویں، پندرہویں اور سولہویں تاریخ کا ہو اگر تیرہویں اور چودھویں رات کو ابتدا سمجھا جائے تو پندرہویں اور سولہویں رات اس چاند کے ظہور کی انتہائی راتیں سمجھی جائیں گی۔بہرحال اللہ تعالیٰ فرماتا ہے گو اسلام پر تنزل کا زمانہ آئے گا مگر تیرہویں صدی میں چاند کا ظہور ہو جائے گا اور یہ تکلیف دہ زمانہ دور ہو جائے گا۔چنانچہ آگے فرماتا ہے لَتَرْکَبُنَّ طَبَقًا عَنْ طَبَقٍ تم طبق بہ طبق اور درجہ