تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 198

میں ایک ایسا معجزہ دکھایا جو قتل کے منصوبے کو ناکام کرنے والے معجزہ کی طرح ہمیشہ کے لئے اسلام کی صداقت اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے دعویٰ کے ثبوت میں پیش ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا۔اور غارثور کی قید محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذلّت کا موجب نہیں بلکہ ہمیشہ آپ کے کلمہ کے اعلاء کا موجب ہوتی رہے گی۔دو۲ تدبیروں میں تو کفار کو ناکامی ہو چکی لیکن ابھی ایک تدبیر باقی تھی وہ لوگ جنہوں نے یہ مشورہ دیا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے باہر نکال دیا جائے کہہ سکتے تھے کہ ہمارے مشورے پر عمل نہ کیا گیا ورنہ اسلام کا خاتمہ ہو جاتا۔خدا تعالیٰ نے نہ چاہا کہ یہ حسرت بھی ان کے دلوں میں باقی نہ رہ جائے وہ آپ کو صحیح سلامت مکہ سے مدینہ لے گیا اور اس طرح اس تیسرے گروہ کی بات بھی پوری ہو گئی کہ صحیح علاج یہ ہے کہ انہیں جلاوطن کر دیا جائے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچے تو کفار نے اردگرد کے قبائل کو اکسانا اور بھڑکانا شروع کر دیا۔کبھی خود چھاپے مارتے اور اس طرح مسلمانوں کو دق کرتے رہتے (سنن ابی داؤد کتاب الـخراج باب فی خبر نضیر) گویا ابھی ایک لیل مسلمانوں کے لئے باقی تھی۔مدینہ میں مسلمانوں کویہ تسلی تو ہو گئی تھی کہ ہمارا رسول محفوظ ہو گیا ہے لیکن ابھی کفار کے مظالم بند نہ ہوئے تھے بلکہ نئے سرے سے انہوں نے عرب قبائل کو اسلام اور مسلمانوںکے خلاف بھڑکانا شروع کر دیا تھا۔اللہ تعالیٰ اسی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ گو دس راتوں کے گذرنے کے بعد روشنی کی ایک شعاع ظاہر ہو گئی ہے۔ہجرت ہو چکی ہے اور شفع اور وتر کا واقعہ بھی رونما ہو چکا ہے مگر ابھی ایک رات باقی ہے۔مشکلات کا ایک سال ابھی رہتا ہے اس ایک سال کے گذرنے کے بعد مسلمانوں کے لئے دوسری فجر چڑھا دی جائے گی۔چنانچہ اس کا ذکر قرآن کریم میں یوں آتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ۔اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْيَا وَ هُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰى وَ الرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ١ؕ وَ لَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِي الْمِيْعٰدِ١ۙ وَ لٰكِنْ لِّيَقْضِيَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ۙ۬ لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَيِّنَةٍ وَّيَحْيٰى مَنْ حَيَّ عَنْۢ بَيِّنَةٍ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَسَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۔اِذْ يُرِيْكَهُمُ اللّٰهُ فِيْ مَنَامِكَ قَلِيْلًا١ؕ وَ لَوْ اَرٰىكَهُمْ كَثِيْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَ لَتَنَازَعْتُمْ فِي الْاَمْرِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ۔وَ اِذْ يُرِيْكُمُوْهُمْ۠ اِذِ الْتَقَيْتُمْ فِيْۤ اَعْيُنِكُمْ قَلِيْلًا وَّ يُقَلِّلُكُمْ فِيْۤ اَعْيُنِهِمْ لِيَقْضِيَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ (الانفال:۴۲تا۴۵) ان آیات قرآنیہ میں جنگِ بدر کا تفصیل کے ساتھ ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اسے فرقان قرار دیا ہے اور بتایا ہے کہ اس جنگ کے ذریعہ ہم نے مسلمانوں کی مشکلات کا خاتمہ کر دیا۔ان کی آخری رات