تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 197
غم مت کر خدا تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے(شــرح الــعــلامـۃ الـزرقـانی عـلی الـمـواھـب اللـدنیۃ جلد۱صفحہ ۲۳۶)۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف یہ نہیں فرمایا کہ اِنَّ اللّٰہَ مَعِیَ۔آپ نے یہ بھی نہیں کیا کہ صرف اتنا کہہ دیتے کہ لَاتَحْزَنْ فکر کی کوئی بات نہیں بلکہ آپ نے ابوبکرؓ کو اپنے ساتھ شامل کیا اور فرمایا خدا تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔پس ثَانِيَ اثْنَيْنِ اِذْ هُمَا فِي الْغَارِ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے سورۂ فجر کے اسی شفع اور وتر والے واقعہ کی طرف اشارہ کر دیا اور بتا دیا کہ وہ جو ہم نے خبر دی تھی کہ کوئی دو۲ ہوں گے اور تیسرا وتر ان کے ساتھ ہو گا وہ وعدہ ہم نے اس وقت پورا کر دیا تھا اِذْ هُمَا فِي الْغَارِ اِذْ يَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا جب وہ دونوں غار میں چھپے بیٹھے تھے اور جب ہمارا رسول اپنے ساتھی سے یہ کہہ رہا تھا کہ غم مت کر۔ہم صرف دو۲ نہیں بلکہ ایک خداجو وتر ہے ہمارے ساتھ ہے ورنہ ثَانِيَ اثْنَيْنِ کہنے کی اپنی ذات میں کوئی ضرورت نہیں تھی اس کے بغیر بھی یہ مضمون بیان ہو سکتا تھا کہ اگر تم مدد نہ کرو گے تو ہم اس کی مدد کریں گے۔چنانچہ دیکھو غارثور میں ہم نے اس کی مدد کی یا نہیں۔مضمون کو بیان کرنے کے لئے صرف اسی قدر ذکر کافی تھا ثَانِيَ اثْنَيْنِ اِذْ هُمَا فِي الْغَارِ کہنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ الفاظ اس لئے استعمال فرمائے تا دنیا کو یہ بتائے کہ ہم نے وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ کہہ کر سورۂ فجر میں جو پیشگوئی کی تھی کہ طلوع فجر کے بعد یعنی مکہ سے ہجرت کرنے کے بعد ایک شفع اور وتر کا واقعہ ظاہر ہو گا وہ پیشگوئی ہماری پوری ہوچکی ہے فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِيْنَتَهٗ عَلَيْهِ۔جب وہ دو سے تین ہو گئے اور ابوبکرؓ کو پتہ لگا کہ ہم صرف دو نہیں بلکہ ایک تیسرا وتر بھی ہمارے ساتھ ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے دل پر سکینت نازل کی۔وَاَيَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا۔بادشاہ اکیلا نہیں ہوتا بلکہ لشکر اس کے ساتھ ہوتا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی عالم روحانی کے بادشاہ تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے وہ لشکر بھیجے جن کو دنیا کے لوگ نہیں دیکھ سکتے تھے۔وَ جَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا السُّفْلٰى۔کفا ر نے کہا تھا کہ اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قید کر لیا جاتا۔اگر اس کو محبوس ومحصور کر لیا جاتا تویہ ناکامی نہ دیکھنی پڑتی۔مگر خدا تعالیٰ نے اس تدبیر میں بھی ان کو ناکام کیا۔باوجود اس کے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غارثور میں بند تھے کفار وہاں پہنچ چکے تھے پھر بھی کفار کا کلمہ ہی ذلیل ہوا۔ان کو ہی ناکام ونامراد واپس لوٹنا پڑا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کلمہ اونچا ہوا۔دیکھو یہ کتنا بڑا معجزہ ہے جو خدا تعالیٰ نے ظاہر کیا اور کتنا عظیم الشان نشان ہے جو اللہ تعالیٰ نے دکھایا کہ کفار نے تو یہ فیصلہ کیا تھا کہ ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قید کرکے ان کی آواز کو دبا دیں گے ان کے کلمہ کو نیچا کر دیں گے مگر خدا تعالیٰ نے اس قید کے نتیجہ میں ان کی آواز کو اور بھی اونچا کر دیا۔وہ قید کر کے آپ کی آواز کو بند کرنا چاہتے تھے خدا تعالیٰ نے قید میں ڈال کر آپ کی آواز کو اور بھی بلند کر دیا اور اس قید کے واقعہ