تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 199
کو بھی جو ان پر چھائی ہوئی تھی دور کر دیا اور ان کے لئے روشن صبح کا طلوع ہو گیا۔یہ ایک عجیب بات ہے کہ وَالَّیْلِ اِذَا یَسْرِ میں رات کے جانے کی خبر دی گئی تھی جس کے معنے یہ تھے کہ اس ایک رات کے گذرنے پر فجر ظاہر ہو جائے گی۔ادھر اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر کا فرقان نام رکھا ہے اور فرقان کے متعلق لغت میں لکھا ہے کہ اس کے معنے ہیں اَلصُّبْحُ۔اَلسَّحْرُ (اقرب ) پس وہ فتح کا دن جس کا وعدہ سورۂ فجر کی آیت وَالَّیْلِ اِذَا یَسْرِ میں کیا گیا تھا کہ طلوعِ فجر کے بعد بھی ایک گیارہویں رات ابھی باقی رہ جائے گی جو آخر دور کر دی جائے گی آخرکار اللہ تعالیٰ نے اس وعدہ کو جنگ بدر میں پورا کر دیا اور کفار کی طاقت کو اس نے ہمیشہ کے لئے توڑ کر رکھ دیا۔اب کفار میں سے کوئی شخص بھی یہ کہنے کی طاقت نہیں رکھتا کہ اگر میرے مشورہ پر عمل کیا جاتا تو فائد ہ رہتا کیونکہ وہ تینوں تدابیر جو اسلام کو کچلنے کے لئے کی گئی تھیں اسلام اور مسلمانوں کی ترقی کا باعث بن گئیں۔یہ ایک عجیب فجر تھی جو مسلمانوں کے لئے ظاہر ہوئی پہلی فجر تو وہ تھی جو دس راتوں کے بعد ظاہر ہوئی اور جس میں نور کی ایک شعاع مسلمانوں کو نظر آنے لگ گئی تھی مگر ابھی فجر کی صرف ایک لَوپیدا ہو ئی تھی کیونکہ ایک رات ابھی باقی تھی۔جب وہ رات بھی گذر گئی اور گیارہ راتیں آ چکیں تو اللہ تعالیٰ نے یوم الفرقان ظاہر کر دیا جس میں عرب کی طاقت کو بالکل کچل دیا گیا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسلمانوں پر اس کے بعد بھی مظالم ہوتے رہے اور انہیں کفار سے کئی لڑائیاں لڑنی پڑیں مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ جنگ بدر نے کفار کی طاقت کو بالکل توڑ دیا تھا اور مسلمانوں کی شوکت ان پر ظاہر ہو گئی تھی۔جنگ بدر جسے قرآن کریم نے فرقان قرار دیا ہے اس کے متعلق بائبل میں بھی پیشگوئی پائی جاتی ہے چنانچہ یسعیاہ باب ۲۱ آیت ۱۳تا۱۷ میں لکھا ہے ’’عرب کی بابت الہامی کلام۔عرب کے صحرامیں تم رات کو کاٹو گے، اے دوانیوں کے قافلو، پانی لے کے پیاسے کا استقبال کرنے آؤ، اے تیما کی سرزمین کے باشندو، روٹی لے کے بھاگنے والے کے ملنے کو نکلو کیونکہ وَے تلواروں کے سامنے سے، ننگی تلوار سے اور کھینچی ہوئی کمان سے اور جنگ کی شدّت سے بھاگے ہیں کیونکہ خدا وند نے مجھ کو یوں فرمایا۔ہنوز ایک برس ہاں مزدور کے سے ایک ٹھیک برس میں قیدار کی ساری حشمت جاتی رہے گی اور تیر اندازوں کے جو باقی رہے قیدار کے بہادر لوگ گھٹ جائیں گے کہ خداوند اسرائیل کے خدا نے یوں فرمایا۔‘‘ (یسعیاہ باب ۲۱ آیت ۱۳تا۱۷) یسعیاہ نبی کے اس کلام میں یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ ہجرت کے زمانے پر ٹھیک ایک سال گذرنے کے بعد عرب