تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 189 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 189

غرض یوروپین اور مسلمان مؤرخ سب اس بات پر متفق ہیں کہ یہ سورۃ چوتھے سال کے قریب نازل ہوئی ہے اور یہی وہ سال ہے جس میں کفار مکہ کی طرف سے منظم مخالفت کا آغاز ہوا اور انہوں نے مسلمانوں کو شدید ترین مصائب میں مبتلا کرنا شروع کر دیا۔میور تسلیم کرتا ہے کہ ابتدائی تین سالوں میں مسلمانوں کی کوئی قابلِ ذکر مخالفت نہیں تھی۔وہ مسلمانوں کودیکھتے تو تمسخر اور استہزاء سے کام لے کر گذر جاتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تبلیغ کرتے دیکھتے تو حقارت سے کہتے یہ ایک پاگل ہے جو لوگوں کو آسمان کی باتیں سنا رہا ہے۔مگر چوتھے سال کے شروع میں جیسا کہ وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌ۔عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ میںخبر دی گئی تھی انہوں نے کھلی اور منظم مخالفت شروع کر دی۔اسلام کو مٹانے کے لئے ان کے چھوٹے اور بڑے سب متحد ہو گئے اور انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ ہم مسلمانوں کو کچل کر رکھ دیں گے۔غرض تاریخی شہادتیں اس بات پر متفق ہیں کہ مسلمانوں پر منظم ظلم چوتھے سال میںشروع ہواہے یعنی ہجرت سے دس سال پہلے ( تاریخ الخمیس جلد ۱ صفحہ ۲۸۷ تا ۲۸۹ )۔اور یہ سورۃ اسی زمانہ میں نازل ہوئی ہے۔پس دس راتوں میں ظلم وتعدی کے ان دس سالوں کی خبر دی گئی ہے جن میں انسانیت اور شرافت کا مکہ والوں نے جنازہ نکال دیا تھا اور منظم ظلم کے شروع ہونے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے بتا دیا تھا کہ اب مکہ والے عَامِلَۃٌ نَّاصِبَۃٌ بننے و الے ہیں، ان کی طرف سے ظلم وستم کا بازار گرم ہونے والا ہے اور وہ اسلام کے خلاف اپنا پورا زور صرف کرنے والے ہیں۔انفرادی طور پر بھی اور جماعتی طور پر بھی۔اور یہ مظالم برابر دس سال تک چلے جائیں گے کہ ہر ایک سال ایک رات کی طرح ہو گا جس میں امید کی کوئی شعاع لوگوں کو نظر نہیں آئے گی مگر آخر ان دس راتوں کے گذرنے کے بعد جو انتہائی دکھ اور تکلیف کی راتیں ہوں گی اللہ تعالیٰ فجر کا طلوع کر دے گا یعنی مصائب اور تکالیف کی یہ راتیں کٹ جائیں گی اور ایک نیا دور مسلمانوں کی ترقی کا شروع ہو جائے گا۔یہ فجر اس طرح ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے کسی نہ کسی رنگ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی خبر مدینہ میں پہنچا دی۔یہودی لوگ مشرکین سے کہا کرتے تھے کہ ہماری کتابوں میں ایک آنے والے موعود کی خبر پائی جاتی ہے اور آثار سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ عنقریب آنے والا ہے جب وہ آئے گا تو دنیا میں خدا تعالیٰ کی بادشاہت کو قائم کرے گا وہ لوگ اس کے معنے یہودیت کی حکومت کے سمجھتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ اس موعود کے آنے پر ہمیں حکومت حاصل ہو جائے گی(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام زیر عنوان انذار یـھود برسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کیونکہ خدا تعالیٰ کے منشا کا ان کو علم نہیں تھا۔چونکہ مشرکین یہود سے بالعموم اس قسم کی باتیں سنتے رہتے تھے اور یہود ان سے تعلیم اور مال