تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 188
لوگوں کو اعلانیہ اپنے مذہب کی تبلیغ شروع کرد ی تھی اور ان کے ماننے والوں کی تعداد بھی بڑھنے لگ گئی تھی لوگ یہ نہیں کہتے تھے کہ ہم ان کو کچل دیں گے یا ان کے مذہب کو مٹا دیں گے۔بلکہ "They would only point at him slightingly as he passed and say there goeth the fellow from among the children of Abdul Muttalib to speak unto the people about the heavens۔" (The Life of Mahomet by Sir William Muir P:68) وہ ان کی طرف حقارت اور نفرت سے دیکھتے ہوئے کہتے دیکھو وہ عبدالمطلب کی اولاد میں سے ایک شخص جارہا ہے جو آسمان کی خبریں لوگوں کو سناتا ہے۔مگر تیسرے سال کے آخر یا چوتھے سال کے شروع میں انہوں نے اسلام کی آرگنائزڈ مخالفت کا فیصلہ کیا۔ریورنڈ ویری لکھتے ہیں:۔"This would be, as Noeldeke has it, about the fourth year of his ministry at Makkah۔" (A comprehensive Commentary on Quran by Wherry; Vol:iv P:239) محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کھلی اور منظم مخالفت جو مکہ میں ہوئی وہ جیسا کہ نولڈکے کا خیال ہے تیسرے سال کے آخر یا چوتھے سال کے شروع میں ہوئی ہے۔پھر دیکھو سورۂ فجر کی نسبت لکھتے ہیں:۔He (Noeldeke) however regards it as early Makkan and in his chronological table places it immediately after chapter LXXX VIII۔(A comprehensive Commentary on Quran by Wherry; Vol:iv P:242) یعنی نولڈکے اس سورۃ کو ابتدائی مکی سورتوں میں شمار کرتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ یہ غاشیہ کے معاً بعد نازل ہوئی ہے اور غاشیہ کے متعلق یہ بتایا جاچکا ہے کہ اس کا نزول چوتھے سال کے قریب ہوا ہے جب کہ مسلمانوں پر کفار مکہ کے مظالم شروع ہونے والے تھے۔