تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 190

میں بھی زیادہ تھے گو تعداد کے لحاظ سے مشرکین زیادہ تھے اس لئے جب ان کے کان میں یہ خبر پہنچی کہ مکہ میں ایک شخص ظاہر ہوا ہے جو کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے باتیں کرتا ہے تو ان کے دلوں میں یہ خیال گذرا کہ اگر وہ سچاہوا اور وہی ہوا جس کا یہود ذکر کیا کرتے ہیں تو پھر کیا ہو گا۔ایسا نہ ہو کہ یہود اس پر ایمان لا کر ہم سے سبقت لے جائیں اور حکومت پر قبضہ کر لیں۔یہودی ان سے کہا کرتے تھے کہ ہم اس موعود کے آنے پر جب بادشاہت حاصل کر لیں گے تو تمہاری خوب خبر لیں گے۔ان باتوں کو سنتے رہنے کی وجہ سے قبائل مدینہ کو آنے والے کا خاص خیال رہتا تھا جب انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی خبر سنی تو فوراً خیال آیا کہ اگر یہ مدعی سچا ہے تو ایسا نہ ہو یہود اسے ہم سے پہلے مان لیں۔ان میں سے بعض لوگ مکہ حج کے لئے گئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے آپ کی باتیں سن کر آپ کی صداقت کا انہیں یقین ہو گیا اور وہ آپ کے ہاتھ پر بیعت کر کے اسلام میں داخل ہو گئے۔پھر اور لوگ آئے پھر اَور لو گ آئے یہاں تک کہ ایک کافی تعدار مدینہ کے لوگوں کی اسلام میں داخل ہو گئی۔اس پر بعض نے کہا کہ مکہ والے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر نہیں کرتے کیوں نہ ہم آپؐکو اپنے پاس بلوا لیں۔چنانچہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کی خدمت میں اپنا وفد بھیجا اور عرض کیا کہ آپ ہمارے ہاں تشریف لے آئیں ہماری قوم قریباً سب کی سب مسلمان ہونے کے لئے تیا ر ہے۔آپ نے فرمایا اگر خدا تعالیٰ مجھے اجازت دے گا تو میں ہجرت کر کے آ جاؤں گا۔اس پر بعض نے کہا کہ ایسا نہ ہو اللہ تعالیٰ جب آپ کو غلبہ عطا فرمائے تو آپ واپس اپنے وطن میں آجائیں۔آپ نے فرمایا ایسا نہیں ہو سکتا۔(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام زیر عنوان امر العقبۃ الثانیۃ) فجر کے طلوع سے مراد آنحضرت صلعم کی ہجرت آخر خدا تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو ہجرت کی اجازت دی اور آپ مدینہ تشریف لے گئے۔یہ ہجرت وہی فجر ہے جس کا ذکر قرآن کریم میں کیا گیا ہے اور جس سے اسلام کے سورج کا طلوع ہوا۔اور جس سے اسلامی سال آج تک چل رہا ہے اور قیامت تک چلے گا۔اسی ہجرت کا ذکر اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ یوں فرمایا ہے رَبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِيْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّيْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِيْرًا (بنی اسـراءیل:۸۱) دیکھو یہاں ہجرت سے زیادہ خوشخبری یعنی داخلہ مکہ کا ذکر پہلے کیا ہے اور ہجرت کا ذکر جو زماناً مقدم ہے بعدمیں کیا ہے۔اسی طرح مکہ والوں کے دس سالہ مظالم کے مقابلہ پر ہجرت ایک نعمت تھی اس کا ذکر پہلے کیا ہے اور دس راتوں کا جو زماناً مقدم تھیں بعد میں ذکر کیا ہے۔ہجرت کا ذکر قرآن کریم میں کئی جگہ کیا گیا ہے۔جس طرح وہ دس تکالیف کے سال اسلامی تاریخ میں ایک اہم جگہ رکھتے ہیں اسی طرح ہجرت بھی ایک اہم جگہ رکھتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ