تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 159

نے سمجھ لیا کہ اس کے سوا اس آیت کے اور کوئی معنے ہو ہی نہیں سکتے کیونکہ پہلی آیتیں مجبور کر کے ان معنوںکی طرف لے جا رہی تھیں۔لطیفہ یہ ہوا کہ انگریزی ترجمۃ القرآن کے سلسلہ میں مولوی شیر علی صاحب کے نوٹ جب میرے پاس آئے تو ان میں وہی معنے لکھے ہوئے تھے مگر وہ نوٹ انہوں نے یہاں نہیں لکھے تھے بلکہ ولایت میں لکھے تھے میں نے ملک غلام فرید صاحب سے پوچھا کہ مولوی صاحب نے یہ نوٹ اب ٹھیک کئے ہیں یا پہلے سے اسی طرح لکھے ہوئے تھے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ ولایت کے لکھے ہوئے ہیں میں نے کہا اگر یہ ولایت کے نوٹ ہیں تو پھر اس آیت کے یہ معنے ولایت میں کس طرح پہنچ گئے؟ میں تو اس آیت پر بڑا غور کرتا رہا تھا مگر اس کے معنے پندرھویں پارہ کی تفسیر لکھتے ہوئے میری سمجھ میں آئے تھے۔اس پر انہوں نے بتایا کہ آپ نے جو درس ۱۹۲۲ء میں دیا تھا اس میں یہی معنے بیان کئے تھے اور اسی وقت کے نوٹوں سے مولوی صاحب نے یہ معنے درج کئے ہیں۔معلوم ہوتا ہے ۱۹۲۲ء کا درس دیتے وقت جب میں اس آیت پر پہنچا تو خود بخود یہ آیت حل ہو گئی مگر چونکہ عین وقت پر حل ہوئی اس لئے میرے قرآن کریم کے حاشیہ پر وہ معنے نہ لکھے گئے اور کچھ عرصہ بعد مجھے بھول گئے۔اب گو ان معنوں کو میں بھول چکا تھا مگر جب ترتیب آیات کے لحاظ سے غو کرتے ہوئے میں اس آیت پر پہنچا تو فوراً وہی معنے پھر ذہن میں آ گئے۔تو ترتیب کے لحاظ سے جو شخص آیات کے معنے کرنے کا عادی ہو وہ ادھر ادھر جا ہی نہیں سکتا۔وہ اسی رَو اور اسی نالی میں بَہہ رہا ہوتا ہے جس کی طرف مضمون زبانِ حال سے اشارہ کر رہا ہوتا ہے۔غرض جوں جوں سورۂ فجر کا درس نزدیک آتا گیا میرا اضطراب بھی بڑھتا چلا گیا۔میں نے کہا جب اس سورۃ کے متعلق میری اپنی تسلی ہی نہیں ہوئی تو میں دوسروں کو کیسے مطمئن کر سکتا ہوں۔مفسرین نے جو معنے بیان کئے ہیں وہ میں بیان کر سکتا تھا مگر جو ترتیب گذشتہ سورتوں سے میں بتاتا آ رہا ہوں اس کے لحاظ سے چاروں کھونٹے قائم نہیں ہوتے تھے۔پہلے خیال آیا کہ میں دوسروں کے معانی ہی نقل کر دوں کیونکہ یہ درس اب جلد کتابی صورت میں چھپنے والا ہے کب تک میں ان معانی کا انتظار کروں جو ترتیب کے مطابق ہوں شاید ترتیب کے مطابق معنے اللہ تعالیٰ پھر کسی وقت کھول دے آخر پرانے مفسروں نے کوئی نہ کوئی معنے ان آیات کے کئے ہی ہیں۔رازی نے بھی ان کے معنے لکھے ہیں۔بحرِ محیط والوں نے بھی معنے لکھے ہیں۔حضرت خلیفۂ اوّل رضی اللہ عنہ نے بھی معنے کئے ہوئے ہیں اور ان تمام معانی کو ملحوظ رکھ کر کچھ نہ کچھ بات بن ہی جاتی ہے مگر چونکہ میرا دل کہتا تھا کہ ترتیب آیات کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ معانی پوری طرح باہم منطبق نہیں ہوتے مجھے اطمینان نہ ہوا۔یہاں تک کہ ۱۷؍ ماہ صلح ۱۳۲۴ہش مطابق ۱۷؍ جنوری۱۹۴۵ء بروز بدھ میں سورۂ غاشیہ کا درس دینے کے لئے مسجد مبارک میں آیا۔میں نے درس