تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 158
حل کر دیتے ہیں مگر میری اپنی نگاہ میں وہ اطمینان بخش معانی نہیں تھے اور اس لئے ہمیشہ ایک بے چینی سی میرے اندر پائی جاتی تھی میں سوچتا اور غور کرتا مگر جو بھی معنے میرے ذہن میں آتے جن کو مزید غور کے بعد میں خود ہی ردّ کر دیتا کہ کہتا کہ یہ درست نہیں ہیں آخر بڑی مدتوں کے بعد ایک دفعہ جب میں عورتوں میں قرآن کریم کے آخری پارہ کا درس دینے لگا تو اس کا ایک حصہ حل ہو گیا مگر پھر بھی جو حل ہوا وہ صرف ایک حصہ ہی تھا مکمل مضمون نہیں تھا جو معنے مجھ پر اس وقت روشن ہوئے ان سے چاروں کھونٹے قائم نہیں ہوتے تھے دو۲ تو بن جاتے تھے مگر دو۲ رہ جاتے تھے یہ حالت چلتی چلی گئی اور مجھے کامل طور پر اس کے معانی کے متعلق اطمینان حاصل نہ ہوا۔اب جو میں نے درس دینا شروع کیا تو پھر یہ سورۃ میرے سامنے آ گئی اور میں نے اس پر غور کرنا شروع کردیا۔میں نے آخری پارے کا درس جولائی ۱۹۴۴ء میں شروع کیا تھا اور ڈلہوزی میں اس کی ابتدا کی تھی اس وقت سے لے کر اب تک کئی دفعہ میں نے اس سورۃ پر نظر ڈالی اور مجھے سخت فکر ہوا کہ اس سورۃ کا درس تو قریب آ رہا ہے مگر ابھی اس کے معانی ترتیبِ سُوَر کے لحاظ سے مجھ پر روشن نہیں ہوئے۔بار بار میں اس سورۃ کو دیکھتا۔اس کے مطالب پر غور کرتا اور کوئی مضمون میرے ذہن میں بھی آ جاتا مگر پھر سوچتے سوچتے میں اس کو ناکافی قرار ددے دیتا غرض بیسیوں دفعہ میں نے اس سورۃ پر نگا ہ دوڑائی مگر مجھے اپنے مقصد میں کامیابی نہ ہوئی یہاں تک کہ سورۃ الغاشیہ کے درس کا وقت آ گیا اور میں اس کے نوٹ لکھنے لگا مگر اس وقت بجائے غاشیہ پر نگاہ ڈالنے کے میری نظر بار بار آگے کی طرف نکل جاتی اور سورۃ الفجر میرے سامنے آ جاتی۔غاشیہ کے متعلق میں سمجھتا کہ یہ تو حل شدہ ہی ہے اور اگر کوئی مشکل آیت بھی ہوئی تو ترتیب میں آ کر وہ خودبخود حل ہو جائے گی۔جس طرح ایک انسان جب گیند پھینکتا ہے تو اسے پتہ ہوتا ہے کہ یہ گیند اتنی دور جائے گا۔اسی طرح جو شخص قرآن کریم کی تفسیر ترتیبِ آیات اور ترتیبِ سُوَر کو مدنظر رکھ کر کرتا ہے وہ سمجھ جاتا ہے کہ اس ترتیب کے مطابق فلاں آیت کے معنے فلاں بنیں گے مگر اس بات کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس نے اپنی عمر اس فن میں صرف کر دی ہو۔وہی جانتا ہے کہ نہر کا رخ کس طرف ہے اور پانی کا بہاؤ کدھر ہے دوسرا شخص جسے قرآن پر اس رنگ میں غور کرنے کا موقع نہ ملا ہو وہ ان باتوں کو نہیں سمجھ سکتا۔جب میں سورۂ کہف کی تفسیر لکھ رہا تھا تو لَا تَقُوْلَنَّ لِشَايْءٍ اِنِّيْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًا۔اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللّٰهُ (الکہف:۲۴،۲۵) کے معنے میری سمجھ میں نہیں آتے تھے مگر تفسیر لکھتے وقت میں نے سمجھا کہ میں صحیح ترتیب پر چل رہا ہوں جب میں اس آیت پر پہنچوں گا تو دیکھوں گا کہ اس کے کیا معنے بنتے ہیں چنانچہ ترتیبِ آیات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں تفسیر کرتا چلا گیا یہاں تک کہ جب میں اس آیت پر پہنچا تو اس وقت یہ آیت اپنے معانی کے لحاظ سے یوں واضح ہو گئی کہ میں