تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 160
سورۂ غاشیہ کا دینا تھا مگر میں غور سورۂ فجر پر کر رہا تھا اسی ذہنی کشمکش میں مَیں نے عصر کی نماز پڑھانی شروع کی اور میرے دل پر ایک بوجھ تھا لیکن خدا تعالیٰ کی قدرت ہے کہ جب میں عصر کی نماز کے آخری سجدہ سے سر اٹھا رہا تھا تو ابھی سر زمین سے ایک بالشت بھر اونچا آیا ہو گا کہ ایک آن میں یہ سورۃ مجھ پر حل ہو گئی۔پہلے بھی کئی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ سجدہ کے وقت خصوصًا نماز کے آخری سجدہ کی حالت میں اللہ تعالیٰ نے بعض آیات کو مجھ پر حل کر دیا۔مگر اس دفعہ بہت ہی زبردست تفہیم تھی کیونکہ وہ ایک نہایت مشکل اور نہایت وسیع مضمون پر حاوی تھی چنانچہ جب میں نے عصر کی نماز کا سلام پھیرا تو بے تحاشہ میری زبان سے اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کے الفاظ بلند آواز سے نکل گئے۔بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ (میں) اللہ کا نام لے کر جو بے حد کرم کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے (شروع کرتا ہوں)۔وَ الْفَجْرِۙ۰۰۲ وَ لَيَالٍ عَشْرٍۙ۰۰۳ وَّ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِۙ۰۰۴ (مجھے) قسم ہے (ایک آنےوالی) فجر کی اور دس راتوں کی اور ایک جفت کی اور ایک وتر کی وَ الَّيْلِ اِذَا يَسْرِۚ۰۰۵ اور (مذکورہ بالا دس راتوں کے بعد آنے والی) رات کی جب وہ چل پڑے۔حلّ لُغات۔یَسْـر: سَـرَا کا مضارع ہے اور سَـرٰی کے معنے ہیں۔رات کو چلا (اقرب ) پس وَالَّیْلِ اِذَایَسْرِ کے معنے ہوں گے رات جب چل پڑے۔تفسیر۔پیشتر اس کے کہ میں وہ معانی بتاؤں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے الہامی طور پر مجھے سمجھائے گے ہیں میں پہلے دوسرے لوگوں کے بیان کردہ معنے بتانا چاہتا ہوں تاکہ میری مشکلات کا دوستوں کو پتہ لگ جائے اور ان کو معلوم ہو کہ میری مشکلات حقیقی مشکلات تھیں۔اگر میں شرح صدر کے بغیر جو مجھے اب حاصل ہے اس کے معنے بتا دیتا تو میں اپنے نفس میں تسلی نہیں پا سکتا تھا۔یہ مضمون میں چار آیات کے متعلق مشترک طور پر بیان کر رہا ہوں۔یہ آیات یہ ہیں (۱) وَالْفَجْرِ (۲) وَلَیَالٍ عَشْرٍ (۳)وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ (۴)وَالَّیْلِ اِذَایَسْرِ۔ان آیات میں چار قسمیں کھائی گئی ہیں اور قسم کے معنے شہادت کے ہوتے ہیں یہ مضمون تفصیل کے ساتھ