تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 157 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 157

گنتی کے چند افراد پر مشتمل تھی۔ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ اس سورۃ میں پیشگوئی فرماتا ہے کہ کفار کی مخالفت کیسا شدید رنگ اختیار کرے گی اور کس طرح مسلمانوں کی ترقی اور رفعت ہو گی۔اسی طرح بعد میں جب خود مسلمان بگڑیں گے اور اسلام سے دور ہو جائیں گے تو اس وقت خدا تعالیٰ کس رنگ میں اپنی نصرت ظاہر کرے گا۔میں اس مقام پر اللہ تعالیٰ کی تائید کے ایک تازہ واقعہ کا ذکر کئے بغیر نہیں رہ سکتا قرآن کریم کے سینکڑوں بلکہ ہزاروں مضامین ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے القاء اور الہام کے طور پر مجھے سمجھائے ہیں اور میں اس بارہ میں اللہ تعالیٰ کے انعامات کا جس قدر بھی شکر ادا کروں کم ہے۔اس نے کئی ایسی آیات جو مجھ پر واضح نہیں تھیں ان کے معانی بطور وحی یا القاء میرے دل پر نازل کئے اور اس طرح اپنے خاص علوم سے اس نے مجھے بہرہ ور کیا۔مثال کے طور پر میں سورۂ بقرہ کی ترتیب کو پیش کرتا ہوں۔میں ایک دن بیٹھا ہوا تھا کہ یک دم مجھے القاء ہوا کہ فلاں آیت اس کی کنجی ہے اور جب میں نے غور کیا تو اس کی تمام ترتیب مجھ پر روشن ہو گئی۔اسی طرح سورۂ فاتحہ کے مضامین مجھے القاء ً اور الہاماً اللہ تعالیٰ کی طرف سے رؤیا میں بتائے گئے تھے۔اس کے بعد خدا تعالیٰ نے میرا سینہ سورۂ فاتحہ کے حقائق سے لبریز فرما دیا۔قرآن کریم کی ترتیبیںبیسیوں آیا ت کے متعلق خدا تعالیٰ کی طرف سے بطور القاء مجھے سمجھائی گئی ہیں مثلاً سورۂ بروج اور سورۂ طارق کا یہ جوڑ کہ ان میں سے ایک سورۃ میں مسیحیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور دوسری سورۃ میں مہدویت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔یہ بھی ان مضامین میں سے ہے جو لوگوں کی نگاہ سے مخفی تھے مگر اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ ان کو ظاہر فرمایا اور مجھے وہ دلائل دیئے جن سے میں اپنے اس استدلال کو پوری قوت کے ساتھ ثابت کر سکتا ہوں اور کوئی منصف مزاج ان دلائل کو تسلیم کرنے سے انکار نہیں کر سکتا۔عقلی طور پر اسے بہرحال ماننا پڑے گا کہ میرا دعویٰ دلائل پرمبنی ہے یہ علیحدہ بات ہے کہ وہ کہہ دے کہ میں ان دلائل کو تسلیم نہیں کرتا لیکن اسے یہ ضرور ماننا پڑے گا کہ میں نے جو دعویٰ کیا ہے اس کے دلائل اور وجوہ موجود ہیں۔غرض قرآن کریم کی کئی مشکل آیات کے معانی اللہ تعالیٰ نے اپنے القاء اور الہام کے ذریعہ مجھ پر منکشف فرمائے ہیں اور اس قسم کی بہت سی مثالیں میری زندگی میں پائی جاتی ہیں۔انہی مشکل آیات میں سے میرے لئے ایک یہ سورۃ بھی تھی۔میں جب بھی سوچتا اور غور کرتا مجھے اس کے معانی کے متعلق تسلی نہیں ہوتی تھی بلکہ ہمیشہ دل میں ایک خلش سی پائی جاتی تھی اور مجھے بار بار یہ خیال پیدا ہوتا تھا کہ جو معانی بتائے جاتے ہیں وہ قلب کو مطمئن کرنے والے نہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مفسرین نے بہت سے معانی کئے ہیں جو لوگوں کی نگاہ میں اس سورۃ کو