تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 146
اس مثال کو مسلمانوں پر چسپاں کیا جائے تو پھر معنے یہ ہوں گے کہ مسلمانوں کی مثال پہاڑوں کی طرح ہے اور تمہاری مثال زمین کی طرح۔ان مسلمانوں کے ذریعہ ہی اب دنیا سے فتنہ و فساد دور ہوں گے۔بے شک زمین سرسبز و شاداب ہوتی ہے اور کئی قسم کی روئیدگیاں اس میں پیدا ہوتی ہیں مگر انہی پہاڑوں کے ذریعہ۔کیونکہ وہی بادلوں کے برسنے کا ذریعہ بنتے ہیں اور وہی دریاؤں کا منبع ہیں پس اب تمہاری ترقی مسلمانوں کے ساتھ وابستہ ہے ان سے جدا ہو کر تم سکھ نہیں پا سکتے۔فَذَكِّرْ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُذَكِّرٌؕ۰۰۲۲ پس نصیحت کر کہ تُو تو صرف نصیحت کرنے والا ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے جبکہ تمام ترقیات اور فوائد مسلمانوں کے ساتھ وابستہ ہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں شامل ہو کر ہی ہر قسم کی برکات کا حصول انسان کے لئے ممکن ہے خدا نے ان کو بادلوں کی طرح دنیا پر چھا جانے والے اور پہاڑوں کی طرح زمین کے فتنہ و فساد کو دور کرنے والے اور ہر قسم کے فوائد لوگوں کو پہنچانے والے بنایا ہے تو پھر اے مسلمانو! تمہارا بھی فرض ہے کہ تم مخالفینِ اسلام کو سمجھاؤ اور انہیں کہو کہ وہ بھی اسلام کو قبول کر لیں اونٹ بن کر انہوں نے کیا لینا ہے۔اگر بننا ہے تو بادل بنیں اور پہاڑوں کی طرح دنیا کو فائد ہ پہنچائیں اور زمین کی طرح دوسری اقوام کے پاؤں تلے روندے نہ جائیں۔لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَۜيْطِرٍۙ۰۰۲۲ تو ان (لوگوں) پر داروغہ (کے طور پر) مقرر نہیں ہے۔اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَ كَفَرَۙ۰۰۲۳ مگر جس نے پیٹھ پھیر لی اور کفر کا مرتکب ہوا۔حلّ لُغات۔اَلْمُصَیْطِر: سین سے بھی لکھا جاتا ہے اور صاد سے بھی ہے۔اور اَلْمُصَیْطِر بھی ہے اور اَلْمُتَصَیْطِر بھی استعمال ہوتا ہے اور اس کے معنے ہیں اَلرَّقِیْبُ اَلْـحَافِظُ وَالْمُسَلَّطُ عَلَی الشَّیْءِ لِیُشْـرِفَ عَلَیْہِ