تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 145
وَ اِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْٙ۰۰۲۰ اور پہاڑوں کو (نہیں دیکھتے) کہ کس طرح گاڑے ہوئے ہیں۔وَ اِلَى الْاَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْٙ۰۰۲۱ اور زمین کو (نہیں دیکھتے) کہ کس طرح ہموار کی ہوئی ہے۔تفسیر۔اس آیت میں دوسری مثال بیان کی گئی ہے جس کا مضمون اوپر سے نیچے کی طرف آتا ہے فرماتا ہے تم پہاڑوں کو دیکھو کہ وہ کس طرح زمین میں گڑے ہوئے ہیں۔دوسری جگہ پہاڑوں کا فائدہ اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ وَ جَعَلْنَا فِي الْاَرْضِ رَوَاسِيَ اَنْ تَمِيْدَ بِهِمْ (الانبیاء:۳۲) ہم نے پہاڑ اس لئے بنائے ہیں کہ زمین ہل نہ جائے اور لوگ تباہ نہ ہو جائیں۔زمین کی غیر ضروری حرکت کو پہاڑوں نے ہی روکا ہوا ہے ورنہ بنی نوع انسان کا زمین میں قیام بالکل ناممکن ہو جاتا۔اللہ تعالیٰ گذشتہ مضمون کے تسلسل میں کفار کو توجہ دلاتا ہے کہ تم اپنے دلوںمیں خیال کرتے ہو کہ یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ مسلمان غالب آ جائیں۔اور ہم مغلوب ہوجائیں۔ہم طاقتور اور بڑی عزت اور شان رکھنے والے ہیں یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہمارے ہم قوم اور ہمارے ہم مذہب ہم کو چھوڑ کر ان کے پیچھے دوڑنے لگ جائیں۔مگر تمہارا یہ خیال بالکل بے بنیاد ہے۔تم بے شک اچھے ہو گے مگر تمہاری اور مسلمانوں کی حالت میں جو کچھ فرق ہے وہ اس سے ظاہر ہے کہ مسلمانوں کو ہم نے اپنی مشیت کے ماتحت پہاڑ بنایا ہے اور تم کو زمین بنایا ہے۔زمین پہاڑوں کے ذریعہ ہی قائم رہتی ہے اگر پہاڑ نہ ہوں تو زمین بھی اس حالت میں نہ رہے۔پس بے شک تم میں خوبیاں ہیں اس سے ہم انکار نہیں کرتے۔جس طرح زمین میں بھی خوبیاں پائی جاتی ہیں اور کوئی شخص ان خوبیوں سے انکار نہیں کر سکتا مگر زمین یہ بھی نہیں کہہ سکتی کہ اسے پہاڑوں کی ضرور ت نہیںیا پہاڑوں کے بغیر بھی اس کی زندگی قائم رہ سکتی۔زمین کی زندگی پہاڑوں کے بغیر قطعی طور پر ناممکن ہے۔اسی طرح اب جبکہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے پہاڑ بنا دیا ہے تمہارا فائدہ اسی میں ہے کہ زمین کی طرح ان کے مقابلہ میں بچھ جاؤ۔جس طرح زمین پہاڑ کے مقابلہ میں بچھ کر ہی فائدہ اٹھاتی ہے اس کے بغیر نہیں اسی طرح تمہارا فائدہ بھی اسی میں ہے کہ تم مسلمانوں کے مقابلہ میں کھڑے نہ ہو۔مسلمانوں کی مثال پہاڑوں سے اور کفار کی مثال زمین سے اگر پہاڑ کی اونچائی کے لحاظ سے