تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 147
وَیَتَعَھَّدَ اَحْوَالَہٗ وَیَکْتُبَ عَـمَلَہٗ وہ شخص جو کسی کی پوری نگرانی کرے اس کے حالات کو دیکھتا رہے اور اس کے اعما ل کو لکھتا رہے (اقرب) پس لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَۜيْطِرٍ کے یہ معنے ہوئے کہ خدا نے تمہیں ان پر مُصَیْطِر نہیں بنایا اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَ كَفَرَ سوائے اس کے جو تولّی اختیار کرتا اور کفر میں مبتلا رہتا ہے۔یہاں اِلَّا استثناء منقطع کے معنے دیتا ہے متصل کے نہیں۔یعنی تو کسی کا مصیطر نہیں ان کا بھی نہیں جو تَوَلّٰى اور کفر اختیار کریں مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ جو تَوَلّٰى کریں گے اور باوجود سمجھانے کے کفر میں مبتلا رہیں گے ان سے بھی تیرا واسطہ نہیں ہے۔جن کے دلوں میں سعادت ہے انہی لوگوں نے تجھے ماننا ہے مگر نہ تجھے ماننے والوں پر مصیطر بنایا گیا ہے اور نہ انکار کرنے والوں پر اور تَوَلّٰى اور کفر اختیار کرنے والوں پر مصیطر بنایا گیا ہے تیرا ان سے کوئی واسطہ نہیں وہ اگر نہیں مانتے تو نہ مانیں ان کا معاملہ خدا کے ساتھ ہے۔تفسیر۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کا مصیطر نہ ہونا دونوں لحاظ سے ہے مومنوں کے لحاظ سے بھی اور کافروں کے لحاظ سے بھی۔یعنی آپ نہ مومنوں کے لئے مُصَیْطِر ہیں اور نہ کفار کے لئے مُصَیْطِر ہیں۔کفار کو اگر جبراً مذہب میں شامل بھی کیا جائے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔وہ ظاہر میں تو مذہب قبول کر لیں گے لیکن دل میں منافق رہیں گے اس لئے اللہ تعالیٰ نے لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَۜيْطِرٍ کہہ کر غیر مذاہب والوں کو جبراً اسلام میں شامل کرنے کی ممانعت فرما دی ہے اور بتایا ہے کہ ہم نے تمہیں ان کا داروغہ مقرر نہیں کیا۔اگر تم جبر سے کام لو گے تو اس سے نہ مومن کو فائدہ ہو گا نہ کافر کو۔کافر کو تو اس لحاظ سے فائدہ نہیں ہو گا کہ اگر وہ تلوار کے ڈر سے مسلمان ہو بھی جائے تو بہرحال وہ منافق مسلمان ہو گا اور منافق کافر سے بد تر ہوتا ہے۔مومنوں کو اس لئے فائدہ نہ ہو گا کہ منافق ان کی طاقت کو کمزور کرنے والے ہوں گے بڑھانے والے نہیں۔مومنوں پر مُصَیْطَر اس لئے نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی رضا ایسے ہی اعمال کے نتیجہ میں انسان کو حاصل ہو سکتی ہے جو دلی شوق اور رغبت سے کئے جائیں۔جس شخص کے دل میں ذاتی طور پر خدا تعالیٰ کی محبت کا کوئی جوش نہیں، اس کے احکام پر عمل کرنے کا ولولہ اس کے سینہ میں نہیں پایا جاتا وہ معرفت اور اخلاص کی راہوں سے بیگانہ ہے۔وہ اگر جبر کے ماتحت کوئی نیک کام کرے گا بھی تو اس کی روح کو پاکیزگی حاصل نہیں ہو گی اور خدا تعالیٰ کے حضور اس کے وہ اعمال قبولیت کی نگاہ سے نہیں دیکھیں جائیں گے اس لئے فرمایا کہ تمہیں لوگوں کا مصیطر بنا کر نہیں بھیجا گیا۔جو شخص کفر کرے اور باوجود سمجھانے کے اپنے بداعمال سے باز نہ آئے اسے ہمارے سپرد کر دو تمہارے جبر سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔اور جو مسلمان ہے اسے شوق اور رغبت کے ذریعہ سے نیکی میں بڑھاؤ تا کہ اسے ایمان کا نفع حاصل ہو۔