تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 118

کے الفاظ واضح کر رہے ہیں کہ ان کو کھانے کے لئے ضریع دیا جائے گا یعنی وہ ایسے ذلیل ہو جائیں گے کہ ایسی چیزیں کھانے پر مجبور ہوں گے جن کو جانور بھی نہیں کھاتے۔مطلب یہ ہے کہ ان کو ایسی ایسی ذلّتیں اور رسوائیاں پہنچیں گی کہ جن کو ادنیٰ ادنیٰ انسان بھی برداشت نہیں کر سکتے۔فتح مکہ کے بعد کئی آدمی جنگلوں میں بھاگ کر چلے گئے تھے اور وہیں مر گئے۔پھر بعض لوگ تھے جو بڑی بڑی تلخیاں برداشت کرنے کے بعد مکہ میں واپس آئے اور انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معافی مانگی جس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو معاف فرما دیا۔(اسد الغابۃ جلد ۳ زیر حالات عکرمہ بن ابی جہل) جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کر لیا تو وہ لوگ جو کہا کرتے تھے کہ ہم مسلمانوں کو تباہ کر دیں گے۔ان کو کچل کر رکھ دیں گے۔ان کو مٹا دیں گے جب اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہوں گے کہ مسلمان غلام ان کے حاکم اور سردار بنے ہوئے ہیں تو خواہ وہ اعلیٰ درجہ کا کھانا ہی کیوں نہ کھاتے ہوں مگر وہ انہیں ضریع سے کم محسوس نہیں ہوتا ہوگا اور وہ کھان ان کے انگ نہیں لگتا ہو گا۔یہ ضروری نہیں کہ ضریع سے مراد یہاں حقیقتاً شبرق گھاس ہی ہو بلکہ آگے جو تشریح کی گئی ہے کہ لَا یُسْمِنُ وَلَا یُغْنِیْ مِنْ جُوْعٍ وہ کھانا نہ ان کو موٹا کرے گا اور نہ ان کی بھوک کو دور کرے گا یہ ان کی بدحواسی کی حالت کو ظاہر کر رہا ہے۔پس بالکل قرین قیاس ہے کہ ضریع کا ذکر استعارۃً ہے۔لَیْسَ لَھُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِیْعٍ اور تُسْقٰى مِنْ عَيْنٍ اٰنِيَةٍ میں اسلام کی ترقی اورکفار کے تنزل کی پیشگوئی وہ روزانہ دیکھتے تھے کہ مسلمان ترقی کر رہے ہیں اور ہم شکست کھاتے جا رہے ہیں۔پھر ہر لڑائی میں انہیں خبریں پہنچتی تھیں کہ آج فلاں رئیس مر گیا ہے۔آج فلاں سردار مر گیا ہے یا آج فلاں قوم مسلمانوں سے مل گئی ہے اور فلاں قوم نے بھی اسلام قبول کرلیا ہے۔یہ خبریں ان کے لئے اس قدر پریشان کن۔اس قدر تکلیف دہ اور اس قد ر غم و الم میں مبتلا کرنے والی تھیں کہ واقعہ میں اچھی سے اچھی غذائیں کھا کر بھی وہ ان کے انگ نہیں لگ سکتی تھیں۔الغرض لَیْسَ لَھُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِیْعٍ لَّایُسْمِنُ وَلَا یُغْنِیْ مِنْ جُوْعٍ اور اسی طرح تُسْقٰى مِنْ عَيْنٍ اٰنِيَةٍ میں اسلام کی ترقیات کے متعلق زبردست پیشگوئی کی گئی ہے۔عیسائی مصنّف بھی تسلیم کرتے ہیں کہ یہ سورۃ ابتدائی ایام کی ہے جب کہ ابھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویٰ نبوت پرصرف تین چار سال گذرے تھے یہ کتنا بڑا نشان ہے کہ ان ابتدائی ایام میں ہی اللہ تعالیٰ نے بتادیا کہ ان کفار سے جنگ ہو گی۔قحط کی صورت میں ان پر عذاب نازل ہو گا۔وہ انفرادی کوششیں بھی اسلام کو مٹانے