تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 117

لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِيْعٍۙ۰۰۷ انہیں سوکھے شبرق گھاس کے سوا اور کوئی کھانا نہیں ملے گا لَّا يُسْمِنُ وَ لَا يُغْنِيْ مِنْ جُوْعٍؕ۰۰۸ وہ نہ تو انہیں موٹا کرے گا اور نہ بھوک (کی تکلیف) سے بچائے گا۔حلّ لُغات۔اَلضَّـرِیْعُ۔اَلضَّـرِیْعُ: اَلضَّـرِیْعُ نَبَاتٌ رَطْبُہٗ یُسَمّٰی شِبْرَقًا وَیَابِسُہٗ ضَـرِیْعًا لَاتَقْرُبُہٗ دَابَّۃٌ لِـخُبْثِہٖ۔یعنی ضریع گھاس کی ایک قسم ہوتی ہے جب تک وہ گھاس تازہ رہے اسے شبرق کہتے ہیں اور جب سوکھ جائے تو ضریع کہتے ہیں ضریع ایسی گندی چیز ہوتی ہے کہ جانور بھی اس کو نہیں کھاتے۔اسی طرح ضریع ایسی گھاس کو بھی کہتے ہیں جو سمندر کے کنارے اُگ آتا ہے مگر چونکہ نہایت گندہ اور بد بو دار ہوتا ہے لوگ اسے کاٹ کر پانی میں بہا دیتے ہیں۔اسی طرح ہر درخت کی سوکھی ٹہنی یا سوکھے پتوں کو بھی ضریع کہتے ہیں۔اسی طرح سڑے ہوئے پانی میں ایک بوٹی ہوتی ہے اس کو بھی ضریع کہتے ہیں۔(اقرب) لغت والوں نے اس کی جو تشریح کی ہے اس سے میں سمجھتا ہوں کہ غالباً اس سے کائی مراد ہے کیونکہ وہ لکھتے ہیں نَبَاتٌ فِی الْمَآءِ الْاَجِنِ لَہٗ عُرُوْقٌ لَاتَصِلُ اِلَی الْاَرْضِ سڑے ہوئے پانی میں ایک بوٹی ہوتی ہے جس کی جڑیں زمین میں نہیں جاتیں پانی میں ہی رہتی ہیں یہ ساری چیزیں ایسی ہیں جن میں کوئی غذائیت نہیں ہوتی اور جنہیں انسان چھوڑ جانور بھی نہیں کھاتے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَیْسَ لَھُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِیْعٍ کہ ان کو سوائے ضریع کے اور کوئی کھانا نہیں ملے گا۔تفسیر۔علامہ زمخشری لکھتے ہیں اس آیت کے معنے یہ ہیں کہ ان کوکوئی کھانا نہیں ملے گا کیونکہ ضریع کوئی کھانا نہیں ہے ( الکشاف سورۃ غاشیہ زیر آیت ’’ لَیْسَ لَھُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِیْعٍ ‘‘) لیکن بحر محیط والوں نے اس پر بڑی عمدہ جرح کی ہے وہ لکھتے ہیں کہ یہ درست نہیں۔قرآن کریم کہتا ہے کہ لَیْسَ لَھُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِیْعٍ ضریع کھانا ہو یا نہ ہو مگر جس کو کھانے کے لئے کچھ نہیں ملتا وہ اپنا پیٹ بھرنے کے لئے کچھ نہ کچھ کھا ہی لیتا ہے خواہ عام حالات میں وہ چیز کھانے کے ناقابل ہی کیوں نہ ہو۔جب اللہ تعالیٰ نے اس کے بعد صاف طور پر فرما دیا ہے کہ لَا یُسْمِنُ وَلَا یُغْنِیْ مِنْ جُوْعٍ تو یہ کیوں کہتے ہو کہ ان کو کھانا نہیں ملے گا۔قرآن کریم کا اسلوبِ بیان اور اس