تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 119

کے لئے کریں گے اور اجتماعی کوششیں بھی اسلام کے خلاف صرف کریں گے چنانچہ عَامِلَۃٌ نَّاصِبَۃٌ میں اسلام کی طرف سے مخالفین اسلام کو اسی رنگ میں چیلنج دیا گیا تھا جس رنگ میں حضرت نوح علیہ السلام نے اپنے دشمنوں کو دیا کہ يٰقَوْمِ اِنْ كَانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَّقَامِيْ وَ تَذْكِيْرِيْ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَعَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْتُ فَاَجْمِعُوْۤا اَمْرَكُمْ وَشُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُنْ اَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوْۤا اِلَيَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِ(یونس:۷۲) یعنی اے میری قوم اگر تمہیں میرا مرتبہ اور اللہ تعالیٰ کے نشانوں کے ذریعہ تمہیں فرائض کی ادائیگی کی طرف توجہ دلانا ناگوار گذرتا ہے تو پھر بے شک میرے مقابلہ میں نکل آؤ۔اپنی تمام قوتوں کو مجتمع کر لو اور ہر لحاظ سے مجھے مٹانے کے لئے متحد ہو جاؤ پھر دیکھو کہ کون ہے جو کامیاب ہوتا ہے اور کون ہے جو ناکامی کا منہ دیکھتا ہے۔بالکل اسی رنگ میں اللہ تعالیٰ اس جگہ فرماتا ہے کہ کفار اپنی تمام طاقتوں کو مجتمع کر لیں گے وہ افسر اور کمانڈر مقرر کر کے مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ کریں گے مگر نہ ان کے کمانڈر ان کے کام آئیں گے،نہ ان کے جیوش ان کو فتح دلائیں گے، نہ ان کے افسر ان کو کامیابی تک پہنچائیں گے اور نہ ان کے منصوبے مسلمانوں کو نقصان پہنچا سکیں گے۔چنانچہ باجود اس کے کہ وہ بڑے بڑے ماہر اور تجربہ کار افسر چن چن کر مقرر کیا کرتے تھے وہ افسر مسلمانوں کے مقابلہ میں ہمیشہ شکست کھا کر واپس آتے۔غور کرو اورسوچو کہ کیسے نازک وقت میں اسلام کی ترقی کی یہ عظیم الشان خبر دی گئی تھی کہ یہ لوگ تو الگ رہے ان کے سردار بھی مسلمانوں کے مقابلہ میں کچھ نہیں کر سکتے۔اس وقت ظاہری حالات کے لحاظ سے کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ مسلمان اپنے گھروں سے باہر نکل کر نمازیں بھی پڑھ سکیں گے فتح و غلبہ تو دور کی بات ہے مگر ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دی گئی کہ مسلمان کامیاب ہوں گے۔دشمن ناکام ہو گا اور انہیں تیز گرم پانی کے گھونٹ بار بار پینے پڑیں گے۔مسلمانوں کی مظلومیت اور ان کی کمزوری اس قدر بڑھی ہوئی تھی کہ جنگ احزاب تک یہ حالت تھی جس کا حدیثوں میں ذکر آتا ہے اور قرآن کریم میں بھی اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ منافق مسلمانوں کو طعنے دیتے تھے کہ تمہیں پاخانہ پھرنے کو تو جگہ نہیں ملتی اور فتح کی خبریں سنائی جا رہی ہیں۔یہ غلبہ کی پیشگوئی چوتھے سال بعد نبوت میں کی گئی ہے اور ہجرت کے پانچویں سال تک مسلمانوں کی کمزوری کی یہ حالت تھی جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔پس اتنا لمباعرصہ پہلے اسلام کے غلبہ اور مسلمانوں کی شان و شوکت کے متعلق خبر دے دینا یقیناً کسی انسان کا کام نہیں ہو سکتا۔غرض لَیْسَ لَھُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِیْعٍ لَّایُسْمِنُ وَلَا یُغْنِیْ مِنْ جُوْعٍ میں بتایا گیا ہے کہ ان کا کھانا اور ان کا پانی ان کے لئے عذاب بن جائے گا اور غم اور مصیبت ان پر نازل ہو گی۔گویا استعارۃً یہ ویسا ہی کلام ہے جیسے