تفسیر کبیر (جلد ۱۲)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 405

تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 110

گرم پانی پینے کا ذکر فرما کر اس طرف اشارہ کیا ہے کہ وہ ہر آرام سے محروم ہو جائیںگے یا یہ کہ ان کی روحانی امراض کو دور کرنے کے لئے انہیں ابتلاؤں میں ڈالا جائے گا اور ایسے گرم چشمہ سے ان کو پانی پلایا جائے گا جس کی گرمی انتہا درجہ تک پہنچی ہوئی ہو گی۔یعنی پانی پینے کی جو اصل غرض ہوتی ہے کہ انسانی جسم پر تروتازگی آئے وہ ان کو حاصل نہیں ہو گی۔دنیا میں دو قسم کی چیزیں ہیں۔ایک تو ایسی ہیں جو نضارت اور تروتازگی پیدا کرتی ہیں اور ایک ایسی ہیں جو موٹاپا پیدا کرتی ہیں۔ان میں سے ایک مقصد غذا سے اور دوسرا مقصد پانی سے حاصل ہو جاتا ہے۔پانی پینے سے تروتازگی حاصل ہوتی ہے اور غذا کھانے سے بھوک دور ہوتی اور جسم فربہ ہوتا ہے۔کفار کے متعلق بتایا کہ ان کو یہ دونوںباتیں حاصل نہیں ہوں گی۔نہ ان کے اندر تازگی پائی جائے گی اور نہ ان کے جسم پر گوشت چڑھے گا یعنی ان کے دل بھی مرجھا جائیں گے اور ان کے جسم بھی مرجھا جائیں گے۔کھولتے ہوئے چشمہ سے پانی پینے سے مراد کھولتا ہوا چشمہ آخرت میں تو ہو گا ہی دنیا میں کھولتے ہوئے چشمہ سے مراد وہ چیز ہوتی ہے جس سے دل کو آگ لگ جائے۔مطلب یہ ہے کہ کفار کو ایسے مصائب پہنچیں گے اور ایسے حالات میں سے وہ گذریں گے کہ ان کے دل جل جائیں گے۔یہ عَیْنٍ اٰنِیَۃٍ ہی تھا کہ ان کی اولادیں مسلمان ہو گئیں اور جس مذہب کو مٹانے کے لئے وہ کھڑے ہوئے تھے اسی مذہب میں ان کے بیٹے شامل ہوگئے۔جب وہ اپنی اولادوں کو اسلام میں شامل ہوتے دیکھتے ہوں گے تو کس طرح ان کے دل جلتے ہوں گے کہ ہم کیا چاہتے تھے اور کیا ہو گیا۔ہمارے ہاں بھی محاورہ کے طور پر کہا جاتا ہے کہ میں تو غم کے گھونٹ پی رہا ہوں۔گویا غم کی چیزوں کو بھی پینے سے مشابہت دی جاتی ہے۔عربی زبان میں بھی غم کے گھونٹ پینا محاورہ کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔پس فرماتا ہے ان کو گرم اور تیز گھونٹ پلائے جائیں گے یعنی ایک طرف ان کی اولادیں اور دوسری طرف غلام مسلمان ہونے لگ جائیں گے جس کا ان کو شدید صدمہ پہنچے گا۔قرآن کریم میں اس حقیقت کو دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُھَا مِنْ اَطْرَافِھَا (الرعد:۴۲) یعنی یہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم پر غالب آ جائیں گے۔آپؐکے دین کو مٹا دیں گے اور مسلمانوں کو شکست دے دیں گے کیا ان اندھوں کو یہ بات نظر نہیں آتی کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے چھوٹا کرتے چلے آ رہے ہیں ادھر غلام اسلام میں داخل ہو رہے ہیں اور ادھر نوجوان اسلام کو قبول کر رہے ہیں جب غلام اور نوجوان دونوں اسلام میں داخل ہو گئے تو پیچھے سوائے بڈھوں کے کون رہ جائے گا۔یہ بڈھے چند سالوں میں مر کر فنا ہو جائیں گے اور ان کی نسلیں اسلام میں شامل ہو جائیں گی۔دنیا میں طاقت کے یہی دو ذرائع ہوتے ہیں