تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 109
انتہا پر پہنچ چکی ہو گی۔تفسیر۔تَصْلٰى نَارًا حَامِيَةً میں مخالفین کی ناکامی کی پیشگوئی فرماتا ہے یہ مخالفت چاہے انفرادی ہو یا قومی مخالفین کی تباہی کا موجب ہو گی اور بجائے اس کے کہ مخالف لوگ امن و آرام پائیں یا انہیں عزّت اور کامیابی حاصل ہو یہ اس آگ میں داخل ہوں گے جو سخت گرم ہو گی اور بھڑکنے میں تیز ہو گی یعنی مسلمان ترقی کر جائیں گے اور مخالفین اپنے منصوبوں میں ناکام و نامراد رہیں گے اور آگ میں جلیں گے۔تُسْقٰى مِنْ عَيْنٍ اٰنِيَةٍؕ۰۰۶ انہیں ابلتے ہوئے چشمہ سے (پانی) پلایا جائے گا۔حلّ لُغات۔عَیْنٌ۔عَیْنٌ کے عربی زبان میں بہت سے معنے ہیں ان معنوں میں سے ایک چشمہ کے ہیں اور دوسرے معنے بادل کے ہیں (اقرب) اس آیت میں چونکہ تُسْقٰى کا لفظ استعمال ہوا ہے اس لئے عَیْنٌ سے مراد چشمہ یا بادل ہی ہو سکتا ہے۔اٰنِیَۃٌ۔اٰنِیَۃٌ: اَنَی ( یَاْنِی اَنْیًا وَ اِنًی وَاَنَاءً )سے ہے اور اَنَی کے معنے ہوتے ہیں دَنٰی وَقَرُبَ وَحَضَـرَ۔وہ قریب ہو گیا اور سامنے آ گیا۔جب پانی کے متعلق یہ لفظ بولا جاتا ہے تو اس کے معنے ہوتے ہیں اِنْتَـھٰی حَرُّہٗ کہ پانی سخت گرم ہو گیا (اقرب) جیسے آگ کے متعلق کہتے ہیں حَـمِیَتِ النَّارُ یعنی آگ سخت بھڑک اٹھی اسی طرح پانی کے لئے جب یہ لفظ استعمال کیا جائے تو اس کے معنے ہوتے ہیں وہ تیز گرم ہو گیا۔پس تُسْقٰی مِنْ عَیْنٍ اٰنِیَۃٍ کے یہ معنے ہوئے کہ انہیں ایسے چشمے سے پانی پلایا جائے گا جو نہایت تیز گرم ہو گا یا ایسے بادلوں سے ان پر پانی برسے گا جو نہایت شدید گرم ہوں گے اور ان کو جھلس کر رکھ دیں گے۔تفسیر۔انسان پانی پیتا ہے تو اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ پیاس بجھے اور پیاس ہمیشہ ٹھنڈا پانی بجھاتا ہے۔لیکن یہاں یہ ذکر ہے کہ ان کو سخت کھولتا ہوا گرم پانی پلایا جائے گا۔گرم پانی انسان دو ہی حالتوں میں پیتا ہے یا تو اس وقت جب بیمار ہو اور علاج کے لئے اسے گرم پانی پینا پڑے اور یا پھر اس وقت جب ٹھنڈا پانی اسے میسر نہ آئے اور مجبوراً گرم پانی پینا پڑے۔(گو اس زمانہ میں لوگوں میں چائے کا طریق مروج ہو گیا ہے جو گرم بھی ہوتی ہے اور پیاس بجھانے کے لئے بھی استعمال کی جاتی ہے مگر وہ درحقیقت ایک غذ اہے پانی کا قائم مقام نہیں) پس