تفسیر کبیر (جلد ۱۲) — Page 111
ایک غلام جو ہاتھ ہوتے ہیں اور دوسری آئندہ نسلیں جو جڑ ہوتی ہیں۔جب ان کے پاس نہ ہاتھ رہے گا نہ جڑ تو درمیان کا ٹنڈ کیا کرے گا۔غرض اس آیت میں اللہ تعالیٰ اسلام کی ترقی کی خبر دیتے ہوئے فرماتا ہے ان کفار کو عَیْنٍ اٰنِیَۃٍ یعنی گرم چشمہ سے گھونٹ پینے پڑیں گے اور یہ ایسی خبریں سنیں گے جن سے ان کے سینے جلنے لگ جائیںگے ہم دیکھتے ہیں کہ واقعہ میں اگر کوئی شخص کسی مذہب کو سچے دل سے قبول کرتا ہے تو اس کی اولاد کا اس سے پھرنا اس کے لئے انتہائی طور پر دکھ کا موجب ہوتا ہے عقلی طور پر اگر اولاد مذہب سے منحرف ہو جاتی ہے تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں، مذہب کے معاملہ میں جبر سے کام نہیں لیا جا سکتا۔حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا اگر ان کا مخالف ہو سکتا ہے تو دوسرے لوگوں کی اولادیں بھی اپنے باپ دادا کے مذہب سے انحراف اختیار کر سکتی ہیں مگر جہاں کوئی اور قائم مقام نہ ہو اور وہ اولاد جس سے انسان کی امیدیں وابستہ ہوں اپنے باپ دادا کے مذہب کو ترک کر دے تو یہ ایک ایسا تلخ گھونٹ ہے جس کا پینا انسانی طاقت برداشت سے بالکل باہر ہوتا ہے۔کفار کے تلخ گھونٹ پینے کے بعض واقعات حدیبیہ کے مقام پر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کفّار سے صلح کی شرائط طے کرنے لگے تو اس وقت کفار کی طر ف سے سہیل ابن عمرو نمائندہ تھے۔اسی اثناء میں کہ ابھی شرائط صلح طے ہی ہو رہی تھیں کہ اس کا بیٹا ابوجندل ایسی حالت میں وہاں آ پہنچا کہ اس کے پاؤں بیڑیاں پڑی ہوئیں تھیں (سیرۃ ابن ہشام زیر عنوان ’’علیٌّ یکتب شروط الصلح‘‘) اور اس نے آتے ہی کہا یا رسول اللہ میں مسلمان ہوں اور آپ پر ایمان لا چکا ہوں۔گھر میں تو اس کا باپ اسے مارپیٹ کر غصہ نکال لیتا ہو گا مگر اس وقت جب اسی کا لڑکا جسے اس نے زنجیروں میں جکڑ کر گھر میں قید کیا ہوا تھا لڑکھڑاتا اور گرتا پڑتا وہاں پہنچا ہو گا اور اس نے کہا ہو گا کہ یا رسول اللہ میں آپ پر ایمان لا چکا ہوں تو اس وقت اس کا کیا حال ہوا ہو گا۔میں سمجھتا ہوں اس کے لئے اٹھنا مشکل ہو گیا ہو گا اور وہ کہتا ہو گا کاش اس وقت زمین پھٹ جائے تو میں اس میںسما جاؤں۔ایسے نازک وقت میں اس کے اپنے بیٹے کا کفر سے اسی طرح برأت کا اظہار کرنا اس کے لئے کتنا تلخ گھونٹ تھا جو اسے پینا پڑا۔اسی طرح ابوجہل کا واقعہ میںنے کئی دفعہ بیان کیا ہے۔وہ جنگ بدر میں دو نوجوان لڑکوں کے ہاتھ سے مارا گیا اور آخری وقت اس نے یہی کہا کہ مجھے اور تو کوئی صدمہ نہیں مگر افسوس ہے تو یہ کہ میں دو انصاری لڑکوں کے ہاتھ سے مارا گیا ہوں۔(صحیح بخاری کتاب المغازی باب قَتْلِ اَبِیْ جَھْلٍ)